خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 393
خطابات ناصر جلد دوم بڑے خادم ہیں یہ۔۳۹۳ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ دسمبر ۱۹۷۹ء اگر آپ کوشش کریں تو ساری کمزوریوں کے باوجود ہمارے اخبار اور رسالے ایک بات تو آپ کو ضرور بتا دیں گے ہر موضوع پر جو آپ سمجھتے ہوں گے کہ آپ کو اس سے پہلے معلوم نہیں تھی یا اگر کبھی معلوم تھی تو اُسے آپ بھلا چکے تھے۔یہ بھی بڑا فائدہ ہے۔اگر آپ آٹھ دس رسالے جو چھپتے ہیں اُن کو پڑھیں ماہانہ جو ہیں تو ایک سو ہیں باتیں آپ کو مل گئیں اور روزانہ جو الفضل چھپتا ہے (اُس میں سے ایک بات اگر آپ کو ایسی ملے جو آپ کی زندگی میں حسن پیدا کرنے والی ثابت ہو آئندہ تو سال میں شاید ۳۶۰ یا وہ چھٹی کرتے ہیں اگر وہ تو اُس سے کم اتنی باتیں مل گئیں۔لوگ کہہ دیتے ہیں الفضل کا ہر مضمون اعلیٰ پایہ کا ہونا چاہئے۔میں بھی کہتا ہوں الفضل کا ہر مضمون اعلی پایہ کا ہونا چاہئے۔وہ کہتے ہیں ( بعض لوگ ) کہ اگر الفضل کا ہر مضمون اعلیٰ پایہ کا نہیں ہوگا تو اس کو لے کے پڑھنے کی کیا ضرورت۔میں کہتا ہوں کہ اگر الفضل کا ایک مضمون بھی اعلیٰ پایہ کا ہے تو اسے لے کے اسے پڑھنے کی ضرورت ہے۔میں اس سے بھی آگے جاتا ہوں۔میں کہتا ہوں اگر الفضل میں ایک ایسا مضمون ہے جس میں ایک بات ایسی لکھی ہے جو آپ کو فائدہ پہنچانے والی ہے تو اُس فائدہ کو ضائع نہ کریں آپ اگر آپ نے بحیثیت قوم آگے ترقی کرنی ہے۔کتا بیں بھی بہت سی چھپتی ہیں ہر سال۔اب تو اتنی ہو گئی ہیں کہ اصولی طور پر ہی باتیں کی جاسکتی ہیں سوائے اُن اخباروں کے متعلق اور کتابوں کے متعلق جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی Out of Print پہلے نایاب تھیں اب وہ پھر طبع ہو گئیں اور آگئیں آپ کے لئے دُکانوں پر یا کوئی بہت ہی اعلیٰ کتاب کسی نے بڑی تحقیق کے بعد لکھی یا تر جے آ گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعض کتابوں کے یا بہت سے اقتباسات کے۔باقی جو دوسرے درجے پہ یا شاید پھر تیسرے درجے پر کتابیں ہیں جن کا ہم ذکر کرتے ہیں یہاں وہ ہیں ایسی کتابیں جن کے مصنفین نے نظام جماعت سے تعاون کیا اور جو یہ قاعدہ بنایا گیا ہے کہ جماعت میں کوئی شخص اپنے طور پر کوئی کتاب شائع نہ کرے کیونکہ اس طرح پر بہت سے فتنوں کے دروازے کھلتے ہیں بلکہ نظارت تصنیف سے رابطہ قائم کرے اور اُن کے مشورے کے ساتھ اور اُن کو اپنا مسودہ دکھانے کے بعد اور اُن سے منظوری لے کر وہ کتاب کو شائع کرے اُن