خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 382
خطابات ناصر جلد دوم اختتامی خطاب ۲۸؍ دسمبر ۱۹۷۸ء اللہ کرے اس گند میں اور بداخلاقی میں اور جہالت میں روحانی طور پر پھنسی ہوئی جو قومیں ہیں۔جو غلطی سے اپنے آپ کو مہذب سمجھتی ہیں۔اللہ تعالیٰ صحیح اور حقیقی تہذیب سے انہیں آشنا کرے اور اللہ تعالیٰ کچی تہذیب کے پھل ان کے لئے مہیا کرے اور ان کو سمجھ عطا کرے اور ان کو توفیق دے کہ وہ دنیا کے لئے دکھ پیدا کرنے کے بجائے ان کے سکھوں کے لئے کام کریں اور اپنے پیسے کو ضائع کرنے کے بجائے پیسے کو صحیح مصرف میں لانے والے بنیں۔اللہ تعالیٰ صبح اور شام، دن اور رات ، بڑے اور چھوٹے، بچے اور بوڑھے اور جوان اور عورت اور مرد سب پر ہم میں سے اپنی بے انتہاء برکتوں کو نازل کرے اور ہماری جھولیاں ہمیشہ اس کے پیار اور اس کی محبت : سے اور اس کی نعماء سے بھری رہیں اور ہمیں شکر کے جذبات سے معمور سینے عطا کرے اور ایسی زبانیں جو چوبیس گھنٹے اس کی حمد اور اس کا شکر کرنے والی ہوں اور شکر نہ کر پائیں اور احساس یہ رکھیں کہ ابھی ہم اس قابل نہیں ہوئے کہ اپنے خدا کا شکر کر سکے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح معنے میں ایک سچا خادم محمدصلی اللہ علیہ وسلم بنائے اور سچار فیق مہدی موعود کا بنائے اور جس منصب پر ان کو قائم کیا گیا اور جس مقصد کے لئے انہیں مبعوث کیا گیا اس کے حصول کے لئے ہمارا بھی جس حد تک ممکن ہو ہمارے لئے حصہ ہو اور جس حد تک اس کے نتیجہ میں ہمیں خدا تعالیٰ کی نعمتیں مل سکتی ہوں وہ ہمیں اس میں ہم حصہ دار بنیں۔آداب دعا کر لیں۔(حضور کی اقتداء میں لمبی اور پر سوز اجتماعی دعا کے ساتھ یہ نہایت ہی بابرکت جلسہ سالانہ اختتام پذیر ہوا ) از رجسٹر خطابات ناصر غیر مطبوعہ )