خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 381 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 381

خطابات ناصر جلد دوم ۳۸۱ اختتامی خطاب ۲۸ / دسمبر ۱۹۷۸ء تو آئے کیوں نہیں پھر وہ۔سمیع ان کا نام ہے۔مراد تھا پہلے۔کہیں اس لئے کہ قیمتیں بڑھ گئیں۔پہلے ہمارا خرچ ہوتا تھا چھ لاکھ روپیہ۔اب یہ جو ساڑھے چار تھے وہ بن گیا نو لاکھ روپیہ۔تو نو لاکھ ہم نہیں دے سکتے تھے۔تو اس طرح بھی تکلیفیں پہنچ جاتی ہیں جذباتی۔دلوں کو تکالیف پہنچتی ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کا بھی مداوا کرے اور بدن کی تکلیف کا بھی مداوا کرے۔یہ بھی تکلیف ہوتی ہے کہ بہت سارے آنکھوں میں آنسو آئے ہوتے ہیں۔کہتے ہیں دعا کریں ہمارے بچے نماز میں ست ہیں نماز ادا کرنے لگ جائیں۔میرے بچو اور جوا نوا یہ تکلیف اپنے پیار کرنے والے باپوں اور ماؤں کو تو نہ دیا کرو کہ نماز میں ستی تم کرو اور آنکھیں ان کی نم ہو جایا کریں۔تمہاری آنکھیں سجدوں میں نم ہونی چاہیں تا کہ تمہیں اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت ملتی رہے۔باہر ہمارے یہاں سے گئے ہوئے مبلغ اور باہر کے مبلغ بھی اب بڑی کثرت سے خدا تعالیٰ نے دے دیئے ہیں۔کچھ ایک ملک سے دوسرے ملک جا کے کرتے ہیں کام اور بہت سارے اپنے ملکوں میں کام کر رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان پر بھی اپنی رحمتیں نازل کرے اور ان کو بہترین جزاء دے اور ان کی زبانوں میں تاثیر ڈالے اور ان کے دلوں میں بنی نوع انسان کی ہمدردی کا جذبہ پیدا کرے اور انہیں وہ لَعَلَّكَ بَاخِعٌ (الشعراء : ۴) والی کیفیت نصیب ہو جس کے نتیجہ میں دنیا میں روحانی انقلاب بپا ہوا کرتے ہیں۔اور جو ہمارے بھائی ساری دنیا میں رہ رہے ہیں۔کسی ملک کے کچھ حالات ہیں اور کسی کے کچھ کسی کے آج اچھے ہیں کل اتنے اچھے نہیں رہتے۔آج اتنے اچھے نہیں۔کل اچھے ہو جاتے ہیں۔یہ دنیا اسی کا نام ہے۔اللہ تعالیٰ جس رنگ میں بھی ان کے حالات کروٹ پلٹیں۔اللہ تعالیٰ ان کے لئے سہولت ہی کے سامان پیدا کرنے والا ہو اور ان کو تکلیفوں سے بچانے والا ہو اور ان قوموں کو جن کو دنیا نے دھتکار کے ان کو سیاہ Continent کا نام دیا تھا ان کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نور کے حصول کے بعد اور اس نور کے پھیلانے کا ذریعہ بننے کی وجہ سے وہ اس کو نورانی براعظم کا نام دیا جائے آئندہ تاریخ میں اور انشاء اللہ جب اسلام غالب آئے گا تو نورانی براعظم ہی کا نام ان کو دیا جائے گا۔یہ بھی ہوگا ایک دن اور جلنے والا کوئی نہیں ہوگا کیونکہ جو آج جلنے والے ہیں وہ بھی تو پھر اسی نور کی چادر کے اندر لپیٹ لئے جائیں گے۔