خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 376 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 376

خطابات ناصر جلد دوم اختتامی خطاب ۲۸؍ دسمبر ۱۹۷۸ء جلسہ گاہ گونج اُٹھی ) اور میں اُن کو چھیڑتا تھا۔میں نے کہا تمہاری تہذیب مارنا جانتی ہے زندہ کرنا نہیں جانتی۔زندہ کرنے والا زندہ کر گیا۔تم ٹھیک ہے ایک بم گرادیا جاپان میں اور پتہ نہیں کتنے آدمی وہاں مار دیئے اور پانچ کر دیئے یہ تو کوئی خوبی نہیں ہے تہذیب کی کہ ہم مارتے ہیں بڑا اچھا اور بڑے وسیع پیمانے پر قتل و غارت کرتے ہیں لیکن وہ تو کمال کا انسان تھا۔اس کی تو خو بیاں بیان نہیں ہو سکتیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سمجھانے کے لئے فرمایا کہ دیکھو۔آپ نے مثال دی اس طرح انگلی کر کے کہ خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں انسان کا دل اس طرح ہے۔تو اس کے جو Angles زاویے ہیں خاص جگہ ہیں جس میں پکڑا ہوا اگر مرضی ہے یوں کر دیتا ہے اس کے زاویے بدل جاتے ہیں۔یوں کر دیتا ہے اس کے زاویے بدل جاتے ہیں پھر وہ جہاں اس کو نور نہیں نظر آتا وہاں نظر آنا شروع ہو جاتا ہے۔وہ تو عظیم نور لے کر آئے اور خدا تعالیٰ نے اب یہ فیصلہ کیا ہے کہ اس مہدی کے ذریعہ جس کے متعلق میں ابھی تک باتیں کر رہا تھا، خدا تعالیٰ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے انقلاب عظیم کو اپنے عروج تک پہنچا دے گا اور دنیا میں پھر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی حکمرانی ہوگی اور کسی کی نہیں ہوگی۔(نعرے) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت پر قرآن عظیم سے ارشادت نبویہ سے بیسیوں دلائل دیئے جا سکتے ہیں۔ان دلائل میں سے ایک تو یہ ہے کہ درخت اپنے پھل سے پہنچانا جاتا ہے۔اگر یہ مدعی جو ہمارے نزدیک حقیقتاً موعود مہدی اور موعود مسیح ہے۔مسیح اور مہدی نہ ہوتا تو اس نے ایک ایسی جماعت پیدا کرنی تھی جن کے دلوں میں خدا تعالیٰ اور اس کے رسول کی محبت اس طرح موجزن ہو کہ وہ افریقہ کے صحرا میں جا کر اس وقت تک پانچ لاکھ سے زیادہ عیسائیوں کو مسلمان بنا چکی ہے؟ ( نعرے)۔خدا تعالیٰ کے فضلوں پر خوش بھی ہے اور حمد کے ترانے بھی گاتی ہے لیکن یہ جماعت سمجھتی ہے کہ اب بھی وہ ذمہ داریاں پوری نہیں ہوئیں جو ان کے کندھوں پر ڈالی گئیں۔اسی دورے میں ایک کیتھولک صحافیہ نے مجھ سے پوچھا آپ نے عیسائیوں کو بھی مسلمان بنایا ؟۔میں نے اس کو کہا بڑے تھوڑے۔یہ مانتا ہوں میں لیکن ابھی ابتداء ہے۔میں نے کہا صرف ویسٹ افریقہ میں پانچ لاکھ سے زیادہ عیسائیوں کو مسلمان بنایا مگر ہمیں تسلی تو نہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ ہمیں اپنی کوششوں کو اور تیز کرنا چاہئے اور اور دلوں کو لاکھوں میں نہیں کروڑوں میں انسانوں کے