خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 27 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 27

خطابات ناصر جلد دوم ۲۷ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۴ء غرض ہم اپنی ذات میں کچھ نہیں۔میں پھر کہتا ہوں کہ احباب جماعت ہمیشہ اسی نہج پر سوچیں کہ وہ اپنی ذات میں کچھ بھی نہیں ہیں لیکن جس کا ہم نے دامن تھاما ہوا ہے۔وہی سب کچھ ہے یعنی اللہ تعالیٰ عزاسمہ وجل شانہ اور جس کو اُس نے رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا ہے یعنی محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی بچی پیروی کئے بغیر تو کوئی انسان خوشحالی اور مسرت حاصل ہی نہیں کر سکتا۔میں نے احباب کو بتایا ہے کہ دوسرے لوگوں کو خوشحالی کے مطلب ہی کا پتہ نہیں ہے اور اس لئے پتہ نہیں ہے کہ کوئی آدمی اُٹھا اُس نے کہا جسمانی قوتوں یا طاقتوں کی تشفی اور سیری کر دو تو دنیا خوش ہو جائے گی مگر اسے یہ علم ہی نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو ذہنی وعلمی اور دماغی قولی دیئے ہیں اُن کو بھلا دیا گیا ہے اگر ان قومی کی تسلی نہ ہوئی تو دکھی انسانیت کے دُکھ کیسے دُور ہوں گے ان کو سکھ کیسے پہنچے گا۔ایک اور شخص اُٹھا اور اس نے کہا اچھا جسمانی طاقتوں کے ساتھ کچھ تھوڑا بہت علمی اور ذہنی قوتوں کی سیری کے بھی سامان پیدا کر دو۔اور یہ نہیں سوچا کہ جسمانی اور ذہنی اور علمی طاقتوں کی ایک حد تک سیری کے علاوہ انسان کو ان سے بھی زبر دست اخلاقی طاقتیں دی گئی ہیں۔ان کی سیری کے سامان پیدا نہیں کرو گے تو دُنیا کی خوش حالی کا سامان کیسے پیدا ہوگا۔خدا تعالیٰ کی اس عظیم شریعت نے جسے شریعت محمدیہ کہتے ہیں، دستور حیات کو نہایت شرح وبسط کے ساتھ بیان کر دیا ہے حتی کہ میاں بیوی کے تعلقات کو بھی نہایت حسن اور خوبی کے ساتھ بیان کر دیا ہے۔اگر اس تعلیم پر عمل کیا جائے تو گھر کا ماحول جنت بن جاتا ہے اس اخلاقی حصے کو اشترا کی نہیں سمجھے۔فطرتِ انسانی کے بعض تقاضے ہیں۔جن کا تعلق صرف مردوں کے ساتھ نہیں۔ان کے متعلق تو یہ عام خیال ہے کہ وہ اس وقت دُنیا میں آگے نکل گئے ہیں۔مگر عورتوں سے جا کر پوچھو کون سی بیوی ہے جو اس بات کو پسند کرتی ہے کہ اس کا خاوند آوارہ گردی کرے۔کوئی عورت یہ پسند نہیں کرتی سوائے اس کے کہ اس کی انسانی فطرت مسخ ہونی شروع ہو چکی ہو۔لیکن یہ جو د نیا دار لوگ ہیں ان میں سے بعض نے اس تجربہ کو اس وقت تک نہیں چھوڑا جب تک کہ انہیں نا کامی نہیں ہوئی۔اور تجربہ یہ کیا کہ گتے کئیاں بغیر شادی کے دن گزارتے ہیں۔ہم انسان ہیں ہم بھی ایسا ہی کریں گے اور پھر جب اُلجھنیں پیدا ہوئیں اور جو اخلاقی تقاضے تھے وہ اخلاقی صورتوں میں جب