خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 351 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 351

خطابات ناصر جلد دوم ۳۵۱ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۸ء جزاک اللہ آپ کے لئے سوچا نا یاد آ گیا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اگر لاکھوں نہیں تو ہزاروں عیسائی ، مسلمان ہوا ہے بلکہ یہ جو ارتداد کا قصہ ہے یہ وہ عیسائی بہت سارے قبائل تھے جن کو یہ ٹھوکر لگی اور پھر بعد میں وہ ٹھیک بھی ہوئے۔بہر حال یہ تو ہے لیکن پھر یہ پیشگوئی کی آپ نے یعنی کہا کہ میری بعثت کا مقصد صلیبی عقائد کو غلط ثابت کرنا اور ان عقائد پر ایمان لانے والوں کو اللہ تعالیٰ کے نور سے منور کر دینا اور ان کے دلوں کو اسلام کے لئے جیتنا ہے اور یہ کام اس وقت سے شروع ہو گیا۔لیکن آپ نے کہا یہ مقصد اپنی آخری کامیابی کے دن اس وقت دیکھے گا جب چودھویں صدی میں میرا ایک روحانی فرزند مسیح موعود پیدا ہو جائے گا اور چودھویں صدی میں پوری شان کے ساتھ وہ پیشینگوئیاں پوری ہوئیں پوری تفصیل کے ساتھ وہ پیشینگوئیاں پوری ہوئیں جو ہر عقلمند در ددل رکھنے والا درد رکھنے والا دل جو ہے اس کو یقین دلانے والی ہیں کہ مسیح آپ کا مثلاً یہ کہنا کہ چاند اور سورج کو معینہ دنوں میں، دن اور رات ، معینہ دن اور رات میں رمضان کے مہینہ میں گرہن لگے گا اور یہ ایک نشانی ہوگی کہ مہدی آ گیا اور یہ ایک ایسا نشان ہوگا کہ جب سے خدا تعالیٰ نے اس جہان کو پیدا کیا ہے کسی موعود کے لئے یہ نشان نہیں رکھا خدا نے ، یعنی جتنے پیار کا اظہارمہدی سے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا جو بیسیوں حدیثیں ہمارے سامنے ہیں وہ اسی لئے کیا کہ آپ نے دیکھا کہ خدا تعالیٰ میرے اس محبوب، روحانی فرزند سے کتنا پیار کرنے والا ہے اصل یہ ہے کہ شرک کو ختم کر کے وحدانیت کو اس کی جگہ قائم کر دینا یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے اور جس طرح خدا تعالیٰ شرک سے بدترین نفرت کرتا ہے اسی طرح خدا تعالیٰ وحدانیت سے انتہائی پیار کرنے والا ہے۔تو چونکہ وحدانیت سے وہ پیار کرنے والا ہے اس کی وحدانیت کو جو قائم کرنے والا ہے اس سے بھی وہ پیار کرے گا۔تو سب سے بڑا نشان جو چودھویں صدی نے خدا تعالیٰ کا دیکھا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت جس نے ظاہر کی وہ مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا۔تو نشانات یوں بکھرے ہوئے ہیں جس طرح چاندنی رات میں چاندنی نکھری ہوئی ہوتی ہے۔چودھویں صدی میں اس طرح نشان بکھرے ہوئے ہیں۔اس لئے میرے دل میں یہ تحریک پیدا کی گئی ہے کہ ہم چودھویں صدی کے آخری تین ماہ میں چودھویں صدی میں جو خدا تعالیٰ نے نشان ظاہر کئے ہیں اس صدی کو با برکت