خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 322
خطابات ناصر جلد دوم ۳۲۲ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۸ء دیتے ہیں کہ تو آرام سے گھر بیٹھ۔بھوکا نہیں رہے گا، نہ تو نہ تیرے بچے نہ تیری بیوی۔اور ایک وہ ہیں جو مثلاً ایک سو پچاس یا دوسور و پید انہوں نے کمایا بچے زیادہ ہیں بڑی غربت ہے ان کو ہزار قسم کی مدد ہے۔کوئی کہتا ہے باقی سارا انتظام ہو گیا مجھے تین لحاف دے دیں ان کو لحاف دے دیتے ہیں۔کسی کو علاج کے سلسلے میں تو ویسے میری اپنی طبیعت ایسی ہے اگر پانچ ہزار روپیہ بھی کسی غریب کو ضرورت ہو واقع میں علاج کرنے کی تو پانچ ہزار روپیہ خرچ کر دے گی جماعت۔اور اس سے بھی زیادہ اہم ہے علم میں نے بتایا ہے نا کہ ذہنی استعدادیں اور قو تیں بھی ہیں۔اب خدا تعالیٰ نے ہمارے بچوں میں محض اپنے فضل کے ساتھ بڑی فراست پیدا کی اور بڑے ذہن پیدا کئے ہیں بڑے ہی ناشکرے ہوں گے ہم اور بڑی ہی ناشکری ہوگی جماعت احمد یہ اگر خدا تعالیٰ کی اس عظیم نعمت کے شکر گزار نہ بنیں اور جو ہمارے گھروں میں ذہین بچہ پیدا ہوتا ہے اس کی پڑھائی کا انتظام نہ کریں جو لائق بچے ہمارے پیدا ہوئے اس وقت بھی کئی پڑھ رہے ہیں جماعت کے خرچ کے اوپر غیر ممالک میں۔یہاں ہم دیتے ہیں ان کو وظیفہ اور اس میں بھی ہم نے جہاں تک ممکن ہے ہمارے لئے ہم ایک غریب جماعت ہیں ابھی اتنے نہیں ہمارے پاس پیسے جتنے ہمارے دوست بعض سمجھتے ہیں لیکن بہر حال ہم نے بہتوں کی مدد کی جن کا جماعت سے کوئی تعلق نہیں۔میں پرنسپل رہا ہوں میں ہر سال تھیں، چالیس ، پچاس غیر احمدی طالبعلموں کی کسی نہ کسی طرح مددضرور کرتا تھا اور کوئی احسان نہیں ان کے اوپر جو خدا نے ان کے لئے چیز پیدا کی ہے وہ ان کو ملنی چاہئے۔میں کون ہوتا ہوں احسان محسوس کرنے والا بھی ، جتانا تو علیحدہ رہا تو اس میں یہ رقمیں شامل ہیں ، سوائے ان رقموں کے جو مثلاً نصرت جہاں کی طرف سے وظائف دیئے گئے ہیں تعلیمی۔یا اور بعض وظائف ہیں جو انگلستان میں دیئے جا رہے ہیں وہ اس رقم میں شامل نہیں لیکن یہاں کے بہت سارے وظائف ہیں یہ دیئے ہیں۔یہ بارہ لاکھ باون ہزاران خاص وظائف کے علاوہ یہ رقم یہاں خرچ کی گئی ہے اور جیسا کہ میں نے کہا میں جانتا ہوں میں سمجھتا ہوں کہ ضرورتیں پوری نہیں ہوں گی پھر بھی۔لیکن کیا کروں جتنا بوجھ جماعت برداشت کر سکتی ہے اس وقت اتنا ہی ہم ادا کرتے ہیں۔تو وہ جو اسلامی تعلیم تھی کہ ہر فرد واحد کی ضرورتوں کو پورا کرنے کا انتظام ہونا چاہئے ، پورا انتظام تو نہیں ہو سکا اللہ تعالیٰ کی منشا کے مطابق لیکن اس راہ پر ایک چھوٹا سا قدم ضرور