خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 302
خطابات ناصر جلد دوم اختتامی خطاب ۲۸ دسمبر ۱۹۷۷ء پھر گواہی دینا ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے انصاف کے ساتھ گواہی دے دیا کرو كُونُوا قَوْمِينَ لِلهِ شُهَدَاء بِالْقِسْطِ (المائدة : 9) اور یہ انصاف کے ساتھ گواہی اس لئے دو تا کہ اللہ تعالیٰ کا قرب جو ہے تمہیں حاصل رہے قَومِینَ لِلہ ہے ناں۔خدا تعالیٰ کے لئے تم یہ کام کرو۔یہاں یہ نہیں کہا کہ اگر کافر ہے تو اس کے خلاف خوب جھوٹ بولو کہیں نہیں کہا قرآن کریم نے بلکہ یہ کہا ہے کہ تم نے جب گواہی دینی ہے تو سچی گواہی دینی ہے۔یہ نہیں دریافت کرنا کہ جی اس کے عقائد کیا ہیں۔یہ دیکھنا ہے کہ وہ ایک انسان ہے خدا نے اسے انسان پیدا کیا اس کے حقوق کچھ قائم کئے ہیں اور ایک یہ حق قرآن کریم اس کا یہ دیتا ہے کہ جب اس کے متعلق گواہی دی جائے تو جھوٹ نہ بولا جائے۔پھر دوسری جگہ آتا ہے کہ جب اس کے متعلق بات کی جائے تو غلط بات نہ کی جائے جیسا کہ پہلے میں نے بتایا اس کے جذبات کو ٹھیس لگانے والی بات ہوتی ہے۔بہت سارے حقوق ہیں جن کا تعلق آپس کی باتوں کے ساتھ ہے اور جن میں مسلم اور غیر مسلم کا کوئی فرق نہیں کیا گیا۔قرآن کریم نے اس عملی ہدایت کو ایک ثابت اور مکمل رہنے والا دین قرار دیا ہے اور اس کے معنی مفردات راغب نے جو ہمارے ایک بڑے بزرگ لغت والے ہیں قرآن کریم کی لغت لکھی ہے۔ویسے بڑے بزرگ ہیں اللہ تعالیٰ نے بڑی فراست ان کو دی ہے افہام قرآن ان کو عطا کیا ہے وہ کہتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ معاش و مال کے امور کو درست کرنے والا۔یعنی قرآن کریم کی تعلیم یہ دنیا کی یہ جو ہماری زندگی ہے ناں معاشرہ ہمارا اس کو بھی اور اخروی زندگی کے حالات کو بھی درست کرنے والی تعلیم ہے یہ ہے دین ان کے اندر جوشخص یہ سمجھتا ہے کہ مال کے متعلق میں تھوڑا بہت میں عمل کرلوں گا لیکن معاش کے متعلق قرآنی حدود کو پھلانگتا ہوا مسلم اور کافر میں فرق میں کروں گا یہ دین اسلام نہیں ہے نہ قرآن کریم کا یہ دعوئی ہے۔پھر فرمایا وَ قَدْ خَابَ مَنْ حَمَلَ ظُلْمًا ( طه : ۱۱۲) جس نے اپنی طاقتوں اور قوتوں کا غلط استعمال کیا وہ ناکام ہو گیا۔زبر دست قوتیں عطا کیں ان کی ہدایت کے سامان پیدا کئے اور یہ اس لئے پیدا کئے کہ خدا تعالیٰ کا قرب انسان کو حاصل ہو جائے اور وہ حقیقی معنی میں اس کا بندہ بن جائے اور اس کے سارے قومی خدا کے لئے ہو جائیں اس کی زندگی خدا میں فانی ہو جائے جیسا کہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حوالے پڑھ کے آپ کو سنائے۔یہ ہے اسلام، اسلام سیاست