خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 281 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 281

خطابات ناصر جلد دوم ۲۸۱ اختتامی خطاب ۲۸ ؍ دسمبر ۱۹۷۷ء کے اوپر پچھلے میں چالیس سال میں زیادہ تجربہ ہوا ہے ویسے اطباء اس سے پہلے بھی استعمال کرتے تھے۔پتھروں کو، اور اس قسم کی دوسری چیزوں کو ، جو جمادات سے جن کا تعلق ہے انسان کی ادویہ میں۔اب انہوں نے یہ کہا ہے کہ مثلاً زنک ہے مثلاً یہ سونا ہے یہ چاندی ہے یا اسی قسم کی اور دھاتیں ہیں۔یہ انسانی جسم کا لازمی اور ضروری حصہ ہیں اگر ان کی کمی ہو جائے تو انسان بیمار ہو جاتا ہے اور اگر چہ ہے base element یعنی اتنا تھوڑا ہے کہ نہ ہونے کے برابر لیکن وہ تھوڑا بھی اگر نہ رہے اتنا بھی تو انسان بیمار ہو جاتا ہے۔تو اس طرح یہ ساروں کو اکٹھا کر کے اور یہ باندھ دیا اور خدا تعالیٰ کی ربوبیت کے عام فیض سے جس طرح دوسری کائنات نے فائدہ اٹھایا ، زیادہ فائدہ انسان کے حق میں پہنچا کیونکہ جس جگہ بھی فائدہ پہنچا وہ انسان کے حق میں وہ فائدہ پہنچ گیا۔اور اس میں جو یادرکھنے والی بات ہے ہمارے اور خصوصاً اس مضمون کے تعلق میں جو آخر میں میں نتیجہ نکالوں گا۔لمبی ایک تمہید مجھے یہ باندھنی پڑی نتیجہ نکالنے کے لئے، یہ ساری کائنات انسان کو فائدہ پہنچا رہی ہے۔قرآن کریم میں اعلان کیا کہ وَسَخَّرَ نَكُمُ مَّا فِي السَّمواتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا منه ( المجانية: ۱۵)۔بغیر استثناء کے ہر چیز کو تمہارا خادم بنا دیا۔اور اس میں یہ جو خدمت ہے کائنات کی ہر چیز انسان کی خدمت کر رہی ہے رب العالمین نے کوئی ایسا قانون نہیں بنایا قوانین قدرت نے کہ یہ خادم جو ہیں انسان کے یہ نیک اور بد میں مومن اور کافر میں فرق کر دیں۔زنک ابو جہل کو بھی اتنا ہی فائدہ پہنچا تا جتنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پہنچا تا اور اگر زنک کی کمی ہوتی تو ہر دو کے لئے برا برتھی یعنی ایک قانون چل رہا ہے اس میں مومن اور کافر کی کوئی تمیز نہیں ہے یہ جو جلوے ہیں رب العالمین کے، ربوبیت باری کے، ان سے سارے فائدہ اٹھا رہے ہیں اور جو کائنات انسان کے علاوہ خادم انسانیت بنائی گئی ہے۔ان کی خدمت جو ہے وہ آنکھ، ہمارے والی آنکھ نہیں خدا تعالیٰ کی مخلوق کو خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک آنکھ دی گئی ہے اور وہ آنکھ انسان کو پہچانتی ہے تبھی اس کی فیور (Favour) کرتی ہے نا اور وہ جو پہچانتی ہے وہ کوئی نیکی اور بدی کو نہیں پہچانتی وہ انسان کو پہچانتی ہے۔خدا تعالیٰ نے ہر چیز کو کائنات کی یہ کہا کہ میرے بنائے ہوئے انسان کی خدمت کر۔سورۃ فاتحہ میں دوسری قسم کا انعام جو ہے وہ رحمان کے لفظ میں بیان ہوا ہے اور رحمان کے لفظ سے ربوبیت کی تربیت کے بعد ایک خاص حصے مخلوقات کو اس عام حصے