خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 275 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 275

خطابات ناصر جلد دوم ۲۷۵ اختتامی خطاب ۲۸ دسمبر۱۹۷۷ء انسان کی پیدائش کا اصل مدعا خدا کی پرستش اور اس کی معرفت ہے اختتامی خطاب جلسه سالانه فرموده ۲۸ / دسمبر ۱۹۷۷ء بمقام ربوه تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا :۔بنیادی اور سب سے زیادہ ضروری سوال ایک عقل مند انسان کے ذہن میں یہ اٹھتا ہے کہ اس کی پیدائش کی غرض کیا ہے کیوں وہ اس دنیا میں پیدا کیا گیا۔جب ہم آج کی مہذب دنیا پہ نگاہ ڈالتے ہیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ تہذیب کی اس ارتقاء کے باوجود مہذب دنیا اپنی سمت بھول چکی ہے اور اسے نہیں معلوم کہ کس غرض کے لیے انسان کو پیدا کیا گیا اور سچی بات تو یہ ہے کہ انسان خود اپنے طور پر اپنی پیدائش کا مقصد نہ پاسکتا ہے نہ بیان کر سکتا ہے جس نے پیدا کیا اللہ رب العالمین نے ، وہی بتائے گا کہ کیوں اور کس غرض سے اس نے انسان کو اس دنیا میں پیدا کیا ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ ( الثريت : ۵۷ ) کہ میں نے جن وانس کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میرے عبد بن جائیں۔اور قرآن کریم نے انسان کے منہ سے یہ کہلوایا اِيَّاكَ نَعْبُدُ (الفاتحة : ۵) کہ ہم تیری عبادت کرتے ہیں، تیرا بندہ بننے کی کوشش کرتے ہیں یا بنتے ہیں۔اس اعلان کی دو سمتیں ہیں ایک تو یہ فطرت انسانی کا اعلان ہے کہ انسان کو جب خدا نے بنایا اور انسان کو جب اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا تو اس کی فطرت میں یہ رکھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایک تعلق قائم کرے اور اس طرح اپنی پیدائش کے مقصود کو حاصل کرے۔اور دوسری طرف ایک عارف کے منہ سے یہ کلمہ نکلتا ہے، جو اپنے رب کی معرفت رکھتا، جو اس کی صفات کا عرفان رکھتا ہے۔اور جو اس نتیجہ پر پہنچتا ہے علی وجہ البصیرت کہ اسے اس لئے پیدا کیا گیا ہے کہ وہ اپنے اللہ کا بندہ بنے۔اس عبد بننے کے اس عبادت کے معنی بھی قرآن کریم سے ہی ہمیں پتہ لگنے چاہئیں یا ان بزرگ