خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 265
خطابات ناصر جلد دوم ۲۶۵ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ ؍ دسمبر ۱۹۷۷ء فضل عمر فاؤنڈیشن یہ ۱۹۶۵ء میں شروع کی تین سال کے لئے اور ایک کمیٹی اس وقت بنا دی گئی تھی جو منتظم تھی کمیٹی اور وہ بہت ساری دیکھ بھال اور روپیہ لگانا اور ان کا منصوبہ یہ تھا کہ جو آمد ہو اپنے منافع سے خدا کے جو دین کی ضرورتیں ہیں وہ پورا کریں گے خدا کے دین کی ضرورتیں تو بے شمار ہیں جو انہوں نے اپنے لئے منتخب کیں وہ ایک تو یہ کہ جماعت کو جو ایسی تعمیری ضروریات ہیں کہ جس پر جماعت اس وقت پیسے نہیں خرچ کر سکتی اس وقت کا لفظ میں نے جان کے لگایا ہے کیونکہ اب تو حالات بہت زیادہ بدل گئے ہیں کہ جن پر جماعت اس وقت پیسے خرچ نہیں کر سکتی تھی یہ آئیں اور خدا توفیق دے اور ان کی انوسٹمنٹ میں جو نفع کے لئے لگا ئیں پیسہ مختلف کمپنیوں میں حصے خرید کر اس میں برکت پیدا ہو تو یہ عمارتیں بنا کے دے دیں۔چنانچہ فضل عمر فاؤ نڈیشن نے ایک تو پہلے تو اپنی ضرورت پوری کی کہ اپنے دفتر کی عمارت بنائی پھر جماعت کی ضرورت پوری کی کہ خلافت لائبریری کی عمارت جو یہ خوبصورت عمارت ہے جو چھوٹی ہو چکی ہے اس وقت وہ بنائی لیکن اس وقت ہم سمجھتے تھے کہ یہ اتنی بڑی عمارت پتہ نہیں کس کے کام آئے گی ہمارا خیال تھا کہ یہ بہت بڑی ہے لیکن اب ہمیں پتہ لگا کہ یہ کم ہے ایک اور اس کے ساتھ جماعت بنانا چاہتی ہے ایک بلڈنگ اور پہلے اپنی عمارت بنائی پھر جماعت احمدیہ کے لئے خلافت لائبریری کی عمارت بنائی پھر یہ جو بین الاقوامی مہمان ہیں ہمارے یہاں آ رہے غیر ممالک کے وفود کی شکل میں ان کے لئے ایک گیسٹ ہاؤس خاصا بڑا جو اس وقت ان کے معیار کے مطابق، ان کی عادات کے مطابق پچاس آدمی مہمان جو ہیں وہ رکھ سکتا ہے۔جیسے ہمارے لحاظ سے تو شاید پانچ سو بھی رہ جائے۔یعنی اگر پرالی بچھا کے ان کو سلا دیں۔ویسے یہ ہے کہ یہ حس پیدا ہوگئی ہے ان میں بعض شکوہ کرتے ہیں کہ ہم سے یہ سلوک کیوں کیا جاتا ہے کہ ہمیں چار پائی دی جاتی ہے یہاں ہر دوسرا مہمان پرالی کے اوپر سویا ہوا ہے۔ہم بھی سونے کے لئے تیار ہیں۔تو انشاء اللہ ان کو سلائیں گے کسی وقت پر الی پر بھی ، ان کی تعداد تو بڑھ ہی رہی ہے گیسٹ ہاؤس نے تو کافی نہیں رہنا۔دوسرے فضل عمر فاؤنڈیشن نے تحقیقی میدان میں علمی میدان میں علمی انعامی مقابلے کا منصوبہ بنایا اور اس کی تحریک کی اور ابھی تک پندرہ مقالے، مقالے تو بہت آئے ہیں ان کے پاس پندرہ مقالے انعام کے مستحق قرار دیے جاچکے ہیں۔پہلے ایک ہزار روپیہ انعام رکھا تھا اور اب ڈیڑھ ہزار کر دیا