خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 264
خطابات ناصر جلد دوم ۲۶۴ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ ؍ دسمبر ۱۹۷۷ء متعلق کچھ کہوں گا اس سے پہلے قرآن کریم میں جو میں نے بتایا کہ تمام علوم کا حامل ہے اور ہر معاملہ اور مسئلہ جو ہے اس کے متعلق بنیادی طور پر روشنی ڈالتا ہے۔قرآن کریم نے ایک جگہ فرمایا ہے کہ ایسے انسان بھی دنیا میں بستے ہیں کہ جو مومن خوشی اور بشاشت سے اپنے مالوں کو بڑھ بڑھ کر خدا کی راہ میں پیش کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کو مال دیئے ہیں اور وہ خدا کی راہ میں پیش کرتے ہیں بڑا اخلاص ہے ان میں ، اور ایسے گروہ ہیں جو ایسے لوگوں پہ بھی طنز کرتے ہیں، ریا ہے یا دنیا کو دکھانے کے لئے ہے یا یہ ہے یا مال حلال نہیں ہے اس کے پاس اس واسطے یہ دے رہا ہے یعنی ہزار قسم کی غلط باتیں طنز کرتے ہیں اور اپنے پاس مال ہونے کے باوجود خدا کی راہ میں پیش کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔الَّذِينَ يَلْمِزُونَ الْمُطَوَّعِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فِى الصَّدَقَتِ (الثوبة : ٧٩) تو ایسے گروہ بھی ہیں ایسی جماعتیں بھی ہیں دنیا میں جو ان مومنوں پر جو خوشی سے بڑھ بڑھ کر صدقہ دینے اور خدا کی راہ میں اور اس کی رضا کے حصول کے لئے قربانیاں دیتے ہیں وہ ان پر طنز کرتے ہیں اور وہ طنزان پر بھی کرتے ہیں اسی وقت میں کہ جن کے پاس پیسہ کوئی نہیں ہوتا اور وہ دیتے نہیں ایک کو کہتے ہیں کہ اس نے دیا لیکن خدا کی رضا کے لئے نہیں دیا اور دوسرے کو کہتے ہیں کہ اس کو دینا چاہئے بڑھ تھا اس کے پاس تھا اور اس نے دیا نہیں حالانکہ جو اس کے پاس تھا وہ اس نے دے دیا اور زیادہ وہ دے ہی نہیں سکتا تھا۔تو کہیں سنا کرتے تھے بچپن میں تفصیل تو مجھے نہیں اس وقت ذہن میں حاضر کہ کوئی ہے حضرت یوسف کو خریدنے کے لئے ایک روٹی کا کالا لے گئی تھی اور اب اس بیچاری کو حضرت یوسف تو نہیں مل سکتے تھے لیکن ہمارا خدا بڑی عظمتوں والا ہے اس شخص کو بھی جو خدا کے حضور ایک دھیلا دے سکتا تھا اور وہ دھیلا پیش کر دیا خدا مل جاتا ہے۔تو یہ مہنگے سو دے نہیں ہیں اور پھر خدا تعالیٰ جو مال لیتا ہے بندے سے اس میں اپنی برکت کا اتنا حصہ ڈالتا ہے کہ انسان کی عقل خدا کی برکت کے نتیجہ میں جو مالوں میں وسعت پیدا ہوتی ہے اور جو پھر مال میں آگے برکت پیدا ہوتی ہے نتیجہ نکالنے کے لحاظ سے وہ انسان کی عقل بتا ہی نہیں سکتی کہ ایسا کیوں ہو گیا جیسا کہ ابھی بعض مثالیں میں آپ کو دوں گا۔