خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 263
خطابات ناصر جلد دوم ۲۶۳ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ ؍ دسمبر ۱۹۷۷ء میں اپنا دایاں ہاتھ سلسلے کے کام کے لئے دیتا ہوں اور جا کے دایاں ہاتھ دس ہزار روپے میں بیچ آ۔کسی کے پاس۔تو ہا تھ ہو گا ہی نہیں تو کام کیسے کرے گا۔تو جب تک وہ قرآن کریم کی تفسیر نہیں جانتا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ساری تحریرات قرآن کریم کی تفسیر ہیں نہ کم نہ زیادہ نہ اس سے مختلف، زیادہ مختلف ایک ہی ہے ذرا پہلو مختلف ہیں کیونکہ قرآن کریم کے نزول کے بعد ، وحی قرآن کے نزول کے بعد اب کسی ہدایت کی ضرورت نہیں رہی نہ تھوڑی نہ بہت اور قرآن کریم الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِى ( المايدة :۴) خدا تعالیٰ نے ایک کامل مکمل شریعت کو ہمارے ہاتھ میں دے کر اپنی نعمتوں کو انتہا تک پہنچا دیا تو کوئی چیز قرآن سے باہر نہیں قرآن کی تفسیر ہے قرآن کی تفسیر خود قرآن کے مطابق زمانوں زمانوں میں بدلتی جائے گی بدلتی اس معنی میں نہیں کہ اختلاف ہوگا پہلی کے ساتھ بلکہ اس معنی میں کہ جو مسائل اس زمانہ کے ہوں گے اور پہلے زمانوں کے وہ مسائل نہ ہونے کی وجہ سے پہلے زمانوں کے خدا رسیدہ بزرگ اولیاء کو وہ تفسیر نہیں سکھائی گئی ہوگی وہ خدا تعالیٰ اس زمانے میں ایسے مقربین پیدا کرے گا مطہرین جن کو وہ خود معلم بن کر قرآن کریم سکھائے گا اور دنیا کی ہدایت کے سامان پیدا کرے گا۔تو اصل قرآن کریم ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے سوائے قرآن کے اور کسی چیز کی بات ہی نہیں کی۔یا قرآن کریم کی اس تفسیر کی آپ نے بات کی ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کی کی ہے۔آپ نے فرمایا ہے کوئی کچی حدیث ایسی نہیں جو قرآن پر کچھ زائد کرتی ہو یا اس سے کچھ کم کرتی ہو۔قرآن کریم کی تفسیر ہے جو قرآن کے مخالف حدیث ہے وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے نکل ہی نہیں سکتی کیونکہ آپ مورد وحی قرآنی تھے اور آپ کو خدا تعالیٰ خود قران کریم کے علوم سکھاتا تھا قرآن کریم کے خلاف آپ کیسے بات کر سکتے تھے۔تو تحریک وقف بعد از ریٹائر منٹ کے متعلق یہ جو تعلیم القرآن انتظامیہ کمیٹی مختلف جماعتوں میں بنے وہ ان پر نگاہ رکھیں ، ان کو مشورے دیں ان سے رپورٹیں لیں مرکز سے مشورہ کر کے رپورٹیں لیں اور ان کو تیار کریں کہ جب یہ ریٹائر ہوں تو خدا اور اس کے رسول کے کسی کام آ سکیں۔فضل عمر فاؤنڈیشن: اب میں فضل عمر فاؤنڈیشن اور نصرت جہاں اور صد سالہ جوبلی کے