خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 257
خطابات ناصر جلد دوم ۲۵۷ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ ؍ دسمبر ۱۹۷۷ء اور اسلام کی ٹھنڈی چھاؤں کے اندر وہ اپنی زندگیاں گزاریں ہر سال ہمارا تربیتی اور اصلاحی کام دنیا میں بحیثیت دنیا آگے بڑھ رہا ہے۔اور اس وقت میں چونکہ تحریک جدید کی بات کر رہا ہوں یہ میرا فقرہ جو ہے وہ بیرون پاکستان کی دنیا سے تعلق رکھتا ہے۔لیکن خاص طور پر ایک تو منجی آئی لینڈ جس کا میں نے ذکر کیا وہاں ایک نئی سرحد ہم نے پار کی ہے پھلانگ گئے ہیں۔وہ سرحد وہاں کے مقامی لوگوں کے اور ہمارے درمیان حائل تھی پہلے ان سے رابطے نہیں تھے۔اور بڑے غور سے سنے لگ گئے ہیں گاؤں کے گاؤں ایسے ہیں جہاں مبلغ جاتا ہے تو سارا گاؤں اکٹھا ہو کے اسلام کی خوبیوں کا لیکچر سنتا ہے لیکن آہستہ آہستہ وہ آئیں گے۔کیونکہ اپنی دنیا بدل دینا، زندگی میں انقلاب بپا کر دینا، بڑی ہمت کا کام ہے۔اور انگلستان ہے انگلستان میں کام بعض لحاظ سے بہت اچھا ہو رہا ہے بعض لحاظ سے سستی بھی ہے لیکن وہ جماعت ایک تو بڑی مضبوط ہوگئی کچھ افریقہ کے احمدی وہاں آ کے لیے اور کچھ یہاں سے جاکے لیے وہاں کے اپنے تو انگلستان میں بسنے والے تعداد کے لحاظ سے بڑے تھوڑے ہیں لیکن بڑے مخلص مثلاً وہ آرچرڈ ہیں ہمارے مبلغ بن گئے فوج سے ریٹائر ہو گے۔یہ بھی ایک انقلاب ہے اس تحریک کا۔تو وہ بڑا کام کر رہا ہے اس نے سکاٹ لینڈ کو سنبھالا ہوا ہے تبلیغ کے لحاظ سے اور تعلیم اور سیکھ رہے ہیں لیکن کتابوں کی اشاعت اور مذہبی آزادی اور بہت دوسری آزادیاں ابھی اس ملک میں میسر ہیں ہمیں۔مثلاً کتابیں شائع کر کے غیر ممالک میں بھیج دینا۔بعض ممالک تو پابندی لگا دیتے ہیں ناں کہ اس طرح بھی ہمارے پیسے خرچ ہوتے ہیں کہ تم غیر ممالک کے لئے کتب شائع کرتے ہو اور ہماری دولت جو ہے ان کتب پر جنہوں نے باہر جانا، بند کر دو۔لیکن انگلستان اور امریکہ میں ابھی نہیں اور انگلستان میں یہ کوشش ہے کہ ہم وہ کر لیں۔اس کا تعلق تو ویسے صد سالہ جو بلی کے ساتھ ہے لیکن اب میں یہیں بیان کر دوں۔کوشش ہم یہ کر رہے ہیں انشاء اللہ تعالیٰ بڑی جلدی۔سال دو سال لگ جائیں اا کاموں میں تو کوئی ایسی دیر نہیں ہوتی بڑی جلدی امریکہ اور انگلستان میں اپنے پر لیس لگا دیئے جائیں۔اس سے پہلے ایک اور کوشش ہے وہ کر رہے ہیں دنیا میں بعض ممالک میں سپیشلائز کر دیا ہے۔یعنی انہوں نے مہارت حاصل کی ہے اور مہارت کے نتیجے میں سستی چھپائی کر دی ہے۔تو دو ایسے ملکوں کا ہمیں پتا لگا ہے جہاں پاکستان سے بھی زیادہ ستی کتابیں شائع ہوسکتی ہیں اور