خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 255
خطابات ناصر جلد دوم ۲۵۵ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ ؍ دسمبر ۱۹۷۷ء جب میں پچھلے سال گیا ہوں تو ٹورانٹو میں سارے احمدی تو نہیں آسکے تھے لیکن جو آ سکے وہ ان کی تعداد بھی میرے سامنے ، میرا خیال ہے مرد ہی ہوں گے ۸۰۰ کے قریب بڑی تعداد ہے اور اس کے علاوہ مستورات تھیں جو تھوڑی بہت آئیں۔وہاں انہوں نے ٹورانٹو میں شہر کے بالکل قریب مضافات میں جو آبادیاں بنی شروع ہوئی ہیں ساڑھے چھ ایکڑ زمین خرید لی پہلے آرام سے بیٹھے ہوئے تھے۔میں نے ان کو ذرا جا کے جھنجھوڑا کیا کرتے ہو تم ؟ زمینیں مہنگی ہو جائیں گی جو چیز آج تمہیں پچاس ہزار ڈالر میں مل سکتی ہے وہ پانچ لاکھ میں بھی نہیں ملے گی بڑی تیزی سے قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔وہ تو جگہ بھی بہت اچھی مل گئی بالکل شہر کے قریب بہت اچھی وہاں آبادی بھی بڑی جلدی ترقی کر رہی ہے انشاء اللہ وہاں مسجد بن جائے گی۔اسی طرح کوشش کر رہے ہیں سپین میں ہمیں امید ہے کہ محنت اور پیسہ، شاید زیادہ خرچ کرنا پڑے لیکن کچھ ہماری غیرت کا بھی سوال ہے نا سپین کے متعلق۔کئی صدیاں اسلام وہاں رہا۔مسلمان حاکم ، دنیا میں دنیوی لحاظ سے بھی انقلاب بپا کرنے والے، ہر چیز میں آگے ، فلسفے میں ، دوسرے علوم میں ، حساب میں طبیعیات میں، کیمیا میں ( کیمسٹری جس کو کہتے ہیں ) اتنا آگے نکلے۔بڑے بڑے محقق جو تھے وہ یورپ کے مختلف علاقوں سے وہ ان کی یو نیورسٹی میں آ کے پڑھتے تھے۔اور پھر یہ دیکھونا، کبھی نسلوں کو اپنی ست نہیں ہونے دینا چاہئے ، پھر وہ نسلیں مست ہو گئیں اور سارا ملک جو ہے وہ ہاتھ سے نکل گیا۔اسلام۔کچھ نام چھوڑ گئے۔بعض گاؤں ہیں جن کے نام اب بھی عربی سے ملتے جلتے ہیں کچھ انسانوں کے نام ہیں جوعر بی ناموں سے ملتے جلتے ہیں لیکن وہاں نہیں رہا۔کچھ تو ساری دنیا کو ہم نے اللہ کے فضل سے نہ کہ اپنی کسی خوبی کے نتیجہ میں ، ساری دنیا کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع کرنا ہے۔وہ تو ہوں گے انشاء اللہ کیوں کہ خدا کا یہ منصوبہ ہے لیکن وہ علاقے جو کسی وقت مسلمان علاقے تھے اور اب وہ غیر مسلم علاقے بن گئے ہیں ان کی طرف تو پہلے اور زیادہ توجہ کرنی چاہیئے۔پہلے تو اتنا تعصب تھا کہ کوئی سوال ہی نہیں تھا مسجد بنانے کا یا مسجد لینے کا اور اب کچھ حالات بدلے ہیں کچھ آزادی مل گئی ہے مذہبی۔اب انشاء اللہ میں امید رکھتا ہوں کہ جب بھی زمین خرید لیں گے پھر اوپر تعمیر بھی ہو جائے گی۔وہ جو صد سالہ جو بلی کا منصوبہ ہے اس میں سپین بھی ہے، اٹلی بھی ہے۔ان میں بھی بنیں گی مسجدیں۔ہمیں ایک ان لوگوں کے نظریات کی وجہ سے یہ کچھ تھوڑی