خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 254
خطابات ناصر جلد دوم ۲۵۴ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ ؍ دسمبر ۱۹۷۷ء سے۔اخلاص کا جو یہ انقلاب ہے جہاں بڑی جماعت ہے وہاں بھی بڑے مخلص ہیں جہاں چھوٹی جماعت ہے وہاں بھی بڑے مخلص ہیں۔تعداد کے اخلاص کو ہم نے تعداد میں تو نہیں تو لنا۔اخلاص تو دل کا اخلاص ہے وہ تو اسی طرح خدا تعالیٰ کسی کو جب وہ اس پر انعام کرتا ہے وہی اس کا اجر ہمیں بتا رہا ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے مقبول کر لیا اسے۔اور تیسری چیز یہ ہے کہ میں نے بتایا پہلے بھی کئی دفعہ بتا چکا ہوں قریباً آٹھ سال تک تحریک جدید کے بعد۔باہر جب جماعتیں پیدا ہوئیں تو ان کے چندے جو تھے کوئی نہیں تھے اور اب مثلاً غانا ہے وہ ایک ایک ماہوار بھی دیتے ہیں کچھ لوگ لیکن اپنے قبائل کے لحاظ سے اور علاقائی لحاظ سے جو وہاں میٹنگ ہوتی ہے اس میں اپیل ہوتی ہے اور وہیں وہ لے کر آئے ہوتے ہیں پیسے۔وہاں دینا شروع کرتے ہیں وہاں بعض اوقات قبائل کا مقابلہ ہو جاتا ہے کہ کون سبقت لے جاتا ہے نیکی کے کاموں میں ، تو لاکھوں کی تعداد میں پیسے، لاکھوں روپے کی مقدار جو ہے پیسوں کی ، وہ چندہ دے دیتے ہیں بڑا انقلاب ہے۔۱۹۴۴ء کے بعد۔یا وہ دن تھے کہ ایک پیسہ بھی ان کے بجٹ پر ان کے ملک سے خرچ نہیں ہوتا تھا اور یا یہ ہے کہ ایک پیسہ بھی ان کے ملک میں باہر سے آکر خرچ نہیں ہوتا۔اپنے پاؤں پر کھڑے ہو گئے سارے سینکڑوں مساجد بنائیں۔اللہ کی مساجد ، جن کو تالے نہیں پڑتے اور جن کے دروازے کسی موحد کے لئے بند نہیں۔سال رواں میں چارنئی مساجد تعمیر ہوئی ہیں متعدد جگہ پر۔اور بہت سی مساجد زیر تعمیر ہیں مختلف ملکوں میں اور کئی ایک جگہ مساجد اور مشن ہاؤس کے لئے زمین لینے کی کوشش شروع ہوگئی ہے اور امید ہے کہ انشاء اللہ اگلا سال جو ہے اس میں ہمیں بعض اہم یورپ کے ممالک جو ہیں اس میں زمین مل جائے گی۔ممکن ہے وہاں مسجد بھی تیار کر لیں ہم۔مسجد کی تعمیر کرنے میں ہم کامیاب ہو جائیں یہ تو خدا ہی بہتر جانتا ہے۔لیکن کام شروع ہو چکا ہے۔ایک نیا مشن کینیا میں کھلا ہے اور ایک نیا مشن کینیڈا میں کھلا ہے۔یعنی یہاں سے کینیڈا میں مبلغ گئے ہیں اور انہوں نے ( مبلغ جو ہے وہ بڑا ضروری ہے حالانکہ وہاں زیادہ کینیڈا میں تعداد ان لوگوں کی ہے جو اس علاقے سے جا کے وہاں آباد ہوئے یا نوکری کر رہے ہیں یعنی بہت ساروں نے امیگریشن لے لی اور بہت سارے ایسے ہیں جنہوں نے امیگریشن نہیں لی لیکن ان کو نوکری ملی ہوئی ہے وہاں کام کر رہے ہیں اور کافی مقامات کے اوپر جماعتیں قائم ہوگئی ہیں۔