خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 11
خطابات ناصر جلد دوم 11 افتتاحی خطاب ۲۶؍ دسمبر ۱۹۷۴ء جماعت احمدیہ کا کام ہے بلکہ اس کا یہ فرض ہے۔حضرت مہدی علیہ السلام نے جماعت کی یہ ڈیوٹی لگائی ہے۔چنانچہ آپ نے فرمایا میں دُنیا کی فلاح و بہبود کے لیے اور اسلام کو ساری دنیا میں غالب کرنے کے لیے آیا ہوں آپ نے یہ بھی فرمایا کہ اسلام کے دو حصے ہیں ایک اللہ تعالیٰ کے حقوق کو ادا کرنا اور دوسرا بنی نوع انسان کے حقوق کو ادا کرنا۔ظاہر ہے نوع انسانی میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو خدا تعالیٰ کے منکر اور اس کو گالیاں دینے والے اور اُس کے خلاف جنگ کرنے والے ہیں یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے علی الاعلان کہا کہ وہ زمین سے خدا کے نام کو اور آسمانوں سے اُس کے وجود کو مٹا دیں گے خدا نے ہمیں کہا تم اُن کے لیے بھی دعائیں کرو۔اس لیے ہم ان کی ہدایت کے لیے بھی دعائیں کرتے ہیں کیونکہ وہ لوگ خدا کے حقیقی پیار سے محروم ہیں۔دنیا کی یہ عارضی ترقیات تو کوئی معنی نہیں رکھتیں انسان نے پہلی دفعہ تو یہ ترقی نہیں کی ، اصطلاحاً بڑے بڑے فراعنہ دُنیا میں پیدا ہوئے اور ان میں ایک وہ بھی تھا جس کا نام بھی فرعون تھا جس کی قوم بڑی شاندار اور مہذب کہلاتی تھی دُنیا میں اُس نے بڑا رعب قائم کیا مگر کہاں گئے وہ لوگ؟ اور کہاں گئیں سرمایہ دارانہ حکومتیں؟ ایک وقت میں سرمایہ دار دنیا پر چھائے ہوئے تھے اور وہ یہ سمجھتے تھے کہ انسان کے اوپر سوائے سرمایہ داری کے اور کوئی چیز حکومت نہیں کر سکتی۔وہ پیچھے چلے گئے دوسرے نمبر پر کمیونزم آ گیا۔یہ بھی پیچھے چلا جائے گا۔صدیوں کی بات نہیں۔دوست میری بات یا درکھیں۔یہ صدیوں کی بات نہیں درجنوں سالوں کی بات ہے کہ اشتراکی نظام بھی پیچھے چلا جائے گا اور پھر دوسری طاقتیں آگے آجائیں گی اور ایک وقت میں وہ بھی پیچھے چلی جائیں گی۔پھر خدا اور اس کا نام لینے والی جماعت، حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہونے والی جماعت، قرآن کریم کے احکام کا سکہ دنیا میں قائم کرنے والی جماعت اور اسلام کا جھنڈا دنیا کے گھر گھر میں گاڑنے والی جماعت آگے آئے گی اور پھر اس دنیا میں اُخروی جنت سے ملتی جلتی ایک جنت پیدا ہوگی اور ہر انسان کی خوشی کے سامان پیدا کئے جائیں گے اور تلخیاں دور کر دی جائیں گی اور مشرق و مغرب اور شمال و جنوب کا انسان اپنی زندگی کی شاہراہ پر خدا تعالیٰ کی حمد کے ترانے گاتے ہوئے آگے ہی آگے بڑھتا چلا جائے گا اور خدا تعالیٰ کے قرب اور اُس کے پیار کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرتا چلا جائے گا اور اس طرح وہ اپنی زندگی کے آخر میں اپنی منزل ، اپنے