خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 164 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 164

خطابات ناصر جلد دوم ۱۶۴ افتتاحی خطاب ۱۰ر دسمبر ۱۹۷۶ء انت الشيخ المسيح الذى لا يُضاع وقته ( تذکرہ ایڈیشن چہارم صفحه ۵۵۰) که تو وہ بزرگ مسیح ہے کہ تیرا وقت ضائع نہیں کیا جائے گا۔یعنی معمور الا وقات آپ خُود بھی تھے اور جماعت کو بھی معمور الاوقات دیکھنا چاہتے تھے۔تاہم سب سے زیادہ معمور الاوقات تو ہمارے سید و مولا محمد صلے اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے۔میں نے سوچا اور بڑا غور کیا ہے عقل حیران ہو جاتی ہے کہ آپ اپنے وقت کو اتنا صحیح استعمال کرنے والے تھے کہ جس کی کوئی مثال نہیں۔آپ باریکیوں میں جا کر ہماری ضرورتوں کے لئے ہدایت بہم پہنچانے کی فکر میں رہتے تھے۔یہ فکر تھی آپ کو کہ لوگ مسواک کریں اور اُن کے مسوڑھوں کو تکلیف نہ پہنچے اس قسم کا احسان کرنے والا دل تھا۔جو آپ کے سینہ میں دھڑک رہا تھا۔یہ فکر تھی آپ کو کہ اگر کسی شخص کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے تو کہیں شیطان اسے یہ نہ ور غلا دے کہ وہ اپنے زور سے یا کسی کی ہمت سے جوتے کا تسمہ لے سکتا ہے اور اس طرح گویا بندے اور خدا کے درمیان دوری نہ پیدا ہو جائے اس لئے یہ فکر تھی آپ کو اور اسی لئے آپ نے فرمایا تسمہ ٹوٹ جائے تو خدا سے مانگو خدا تمہیں دینے والا ہے ( مجمع الزوائد جلد نمبر، اصفحہ ۱۶۶) ہم نے اپنی زندگیوں میں اس بات کا مشاہدہ کیا ہے کہ حقیقتا خدا ہی دیتا ہے اور محمدصلی اللہ علیہ وسلم ہی یقینی طور پر سچے ہیں۔کیونکہ بہت سے سہ لینے گئے اور دُوکان پر پہنچنے سے پہلے ہی اُن کی حرکت قلب بند ہوئی اور وہ مر گئے لیکن میں اس وقت جو بات بتا رہا ہوں وہ اس محسن کے احسان عظیم کی بات ہے اور اس کے معمور الاوقات ہونے کی بات ہے۔آپ نے اتنی کثرت سے ہدایتیں دیں کہ ہماری عمر ان کو دوہراتے ہوئے تھک جاتی ہے بلکہ وہ ہمارا ساتھ نہیں دے پاتی۔انسان ان سب کا احاطہ نہیں کر سکتا۔ایک وقت میں ایک متعصب مستشرق نے کہا تھا کہ مسند احمد بن جنبل میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جو احادیث اکٹھی کی گئی ہیں وہ صرف اسی نے پڑھی ہیں۔مسلمانوں میں سے اور کوئی ایسا شخص نہیں ہے جس نے شروع سے لے کر آخر تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ان ارشادات کو پڑھا ہو جو صرف اس حدیث کی کتاب میں ہیں جن کو مسند احمد بن جنبل کہتے ہیں اور جو حدیث کی بہت بڑی کتاب ہے۔صرف بعض قسم کی احادیث کو اکٹھا کرنے پر امام بخاری نے ساری عمر لگا دی اور بہت سی ایسی احادیث تھیں جن کو وہ اکٹھا نہ کر سکے مگر اس کی شان دیکھو جس نے نیکی اور بھلائی