خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 157
خطابات ناصر جلد دوم ۱۵۷ اختتامی خطاب ۲۸ / دسمبر ۱۹۷۵ء ہے کیا۔ابدی زندگی کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں۔ابدی زندگی کے مقابلے میں انسان کی دس ، ہیں، پچاس سوسال کی زندگی کیا حقیقت رکھتی ہے ابدی حیات ہی حسین حیات ہے کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کے پیار کی حیات ہے اور صبح شام ترقیات کی حیات ہے اور یہی وہ زندگی ہے جس کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث میں وعدہ دیا گیا ہے یعنی جنت میں یہی وہ مقام ہے جس پر انسان صبح ہوگا اور شام کو نہیں ہو گا بلکہ خدا کے پیار میں آگے نکل چکا ہوگا۔پس اخروی زندگی بڑی حسین زندگی ہے۔روحانی دنیا بڑی حسین دنیا ہے خدا کی رضا کی جنتیں ہی زندگی کا اصل مقصد ہیں مگر لوگ ان سے محروم ہیں اور کہتے ہیں ہمیں ان کی پرواہ نہیں ہے۔تمہیں اگلے پانچ سال کی پرواہ ہے تمہیں ریٹائر ہونے کے بعد پنشن وغیرہ کی تو پرواہ ہے اور پتہ نہیں ریٹائر ہونے کے بعد کوئی ایک سال زندہ رہتا ہے یا دو سال زندہ رہتا ہے۔گویا انسان اپنی عمر تو سروس میں گزار دیتا ہے۔پس پنشن کے زمانہ کی تو اسے پرواہ ہے لیکن ابدی زندگی کی اسے کوئی پرواہ نہیں ہے آخر اتنی حماقت لوگوں کے سروں پر کیوں سوار ہو گئی لیکن سوار ہے اور یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ان کی آنکھیں کھولے اور ان کو نور بصارت اور نور بصیرت عطا فرمائے۔اسی طرح وہ مذاہب جو اپنا وقت گزار چکے وہ اب منسوخ ہو چکے ہیں پہلے زمانہ میں وقت وقت اور علاقہ علاقہ کے لئے نبی آتے رہے، کوئی دس میل کے علاقہ کے لئے نبی آیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ بعض لحاظ سے بنی اسرائیل میں ایک ایک وقت میں نبوت کرنے والے یعنی خدا تعالیٰ سے کلام سن کر لوگوں کی رہنمائی کرنے والے سینکڑوں نبی موجود ہوتے تھے تو اس طرح گویا ایک نبی کے حصہ میں دس پندرہ میل کا علاقہ ہی آتا ہو گا وہ وقت تو گزر گیا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تعلیم کو حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت نے منسوخ کردیا بلکہ موسوی شریعت میں ہر نبی نے جو موسی کے بعد آیا ترامیم کر دیں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت کی یہ بھی ایک عجیب حقیقت ہے۔حضرت عیسی علیہ السلام نے جو انہیں کی شریعت کے تابع اور یہ اعلان کرنے والے تھے کہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت کے استحکام کے لئے اور اسے دوبارہ قائم کرنے کے لئے آئے ہیں انہوں نے بھی کہا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام