خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 150
خطابات ناصر جلد دوم اختتامی خطاب ۲۸ ؍دسمبر ۱۹۷۵ء لیکن ایک مہینہ پہلے سے بچہ کو بتا دینا کہ یہ بھینس کٹا دے گی یہ بڑی بات ہے۔ایک دن پہلے بھی سوائے خدا کے اور کوئی بتا نہیں سکتا۔خدا تعالیٰ وحی کے ذریعہ بتاتا ہے اور جہاں تک میر اعلم ہے اور میرا یہ دعویٰ نہیں ہے کہ میر اعلم کامل ہے۔ساری دنیا میں خدا کی صفات کے جو جلوے ہیں انسان ان کا احاطہ نہیں کر سکتا لیکن جتنا علم انسان کو دیا جاتا ہے وہ بھی بڑا دلچسپ ہے کہ صرف خدا تعالیٰ کی وحی شہد کی مکھی کو پہلے بتا دیتی ہے کہ تیرے انڈے میں نر نکلے گا یا مادہ نکلے گی۔اس لئے اس نے اپنے چھتے میں مختلف جگہیں بنائی ہوئی ہوتی ہیں۔اگر نر نکلنا ہو تو ایک اور جگہ جا کر رکھتی ہے اور اگر مادہ نکلنی ہو تو اور جگہ رکھتی ہے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے او لی رَبُّكَ إِلَى النَّحْلِ (النحل : ٢٩) یہ بھی وحی کا ایک حصہ ہے۔پس خدا تعالیٰ تو ایک ایسی پیار کرنے والی ہستی ہے ایسی حسن و احسان کی حامل ہستی ہے جو شہد کی مکھی پر بھی قرآن کریم کی اصطلاح میں وحی کے ذریعہ اپنے پیار کا اظہار کرگئی تو پھر انسان سے وہ کیوں پیار نہ کرے گا لیکن خدا کی آواز سننے کے لئے پہلے خدا کا بندہ بنا ضروری ہے۔پس جیسا کہ میں نے شروع میں کہا تھا۔میں آج ایک عظیم جہاد کا اعلان کرتا ہوں۔یہ جہاد لاٹھیوں اور بندوقوں کا جہاد نہیں بلکہ یہ ایک عظیم علمی جہاد ہے جس کا میں اعلان کرتا ہوں کہ ہماری جماعت کو فوری طور پر اسلامی آداب اور اخلاق کے بارہ میں متوجہ ہونا چاہئے اور اس میں تعلق باللہ سے متعلقہ مسائل کو بھی لینا ہے یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کس طرح کیا مسجد میں کس طرح جانا ہے۔یہ مسائل انسان سے بھی تعلق رکھتے ہیں ایک حد تک بعض لحاظ سے، لیکن اصل تو ہم نے تعلق باللہ کے ساتھ نماز ادا کرنی ہے پس اس وقت میں اس عظیم علمی جہاد کا اعلان کرتا ہوں اور جماعت کو چاہئے کہ فوری طور پر ایسے آدمی مقرر کرے علماء میں سے جن سے دوسرے کام چھڑوا لئے جائیں اور وہ آداب اسلامی اور اخلاق اسلامی کے موضوع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سارے ارشادات جتنے بھی ممکن ہو سکیں اکٹھے کریں اور پھر ان کو اس رنگ میں جماعت احمدیہ کے ہر چھوٹے اور بڑے اور ہر مرد اور عورت کے سامنے پیش کیا جائے کہ وہ ہر وقت ان باتوں پر عمل کر کے اور کروا کر وحشی سے انسان بننے اور انسان سے با اخلاق بننے اور با اخلاق سے باخدا انسان بنے کی توفیق حاصل کریں۔اگر ہم نے اس وقت ان چیزوں کی طرف توجہ نہ کی تو پھر اسلام کی جو مخالف طاقتیں ابھر رہی