خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 148
خطابات ناصر جلد دوم ۱۴۸ اختتامی خطاب ۲۸ / دسمبر ۱۹۷۵ء پر ایڑی کی چوٹ لگی اور وہ مر گیا۔تو وہ یہ نہیں کہ سکتا کہ دیکھو میں نے کتنا اچھا کام کیا ہے۔تم نے تو بغیر ارادہ کے سوتے میں ایک حرکت کی اور اس سے ایک نیکی عمل میں آ گئی۔اس کا کریڈٹ تم نہیں لے سکتے۔پس ہر کام بالا رادہ ہونا چاہئے اور موقع اور محل کے مطابق ہونا چاہیئے گویا ایک ترک شر کے ساتھ تعلق رکھنے والے اخلاق ہیں یعنی اسلام کی وہ تعلیم مثلاً کسی کی عزت پر حملہ نہیں کرنا۔اس کے مال پر حملہ نہیں کرنا۔اس کے بدن پر حملہ نہیں کرنا یعنی اسے بدنی ایذا نہیں پہنچانی۔پس طلاقت اور رفق قُولُوالِلنَّاسِ حُسْنًا (البقرة :۸۴) کی رو سے خلق ہیں۔اپنی زبان سے کسی کو ایذا نہیں پہنچانی۔قرآن کریم نے دوسری جگہ کہا ہے تمہیں اپنے مخالفوں سے جب وہ زبان کے ذریعہ ایذا پہنچا ئیں تو تمہیں یہ ایذا برداشت کرنی پڑے گی خواہ کوئی کتنا ہی مخالف کیوں نہ ہواس کے ساتھ حسن خلق اور رفق کے ساتھ بات کرنی چاہئے اور قُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا (البقرة : ۸۴) پر عمل کرنا چاہئے۔اس کے مقابلہ میں ایصال خیر ہے یعنی سکھ پہنچانا۔نیکی کرنا۔خیر پہنچانا۔ہم اپنی تمام خدا داد قوتوں سے نوع انسانی کی خدمت کر سکتے ہیں اگر ہم اسلامی تعلیم پر عمل کرنے والے ہوں اور ہم اسلامی تعلیم پر صرف اسی وقت عمل کر سکتے ہیں جب وہ تعلیم ہمارے ہاتھوں میں دی جائے۔اپنی زندگیوں کا جزو اس کو اسی وقت بنا سکتے ہیں جب بچپن سے لے کر بڑی عمر تک ہم اپنے بچوں کو کہتے رہیں کہ دیکھو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانے کے متعلق یہ آداب سکھائے ہیں۔چلنے کے متعلق یہ آداب سکھائے ہیں۔مجلس میں بیٹھنے کے متعلق یہ آداب سکھائے ہیں، مسجد کے یہ آداب سکھائے ہیں، مسجد چھوڑنے کے یہ آداب سکھائے ہیں ، رفع حاجت کے لئے جانے کے یہ آداب سکھائے ہیں ، اور رفع حاجت کے لئے غسل خانے اور ٹیاں وغیرہ تعمیر کی جاتی ہیں ان کی تعمیر کے لئے یہ آداب سکھائے ہیں اور لباس کے متعلق یہ آداب سکھائے ہیں۔شادی بیاہ کے متعلق یہ آداب سکھائے ہیں۔یہ ساری تعلیم محض علمی نہیں۔یاد تو نہیں کرانی۔یاد کر وا نا مشکل سے البتہ بچوں سے اس پر عمل کروانا آسان ہے مثلاً اسلام کا ایک یہ حکم ہے کہ دوسروں کو چیز دو تو دائیں ہاتھ سے دو اگر بچہ بھی لے تو دائیں ہاتھ سے لے۔کئی دفعہ اپنے گھر کے بچے آتے ہیں ان کو کوئی چھوٹی موٹی چیز کھانے کی دی تو بچہ بچہ ہی ہے ہم نے اس کو سکھانا ہے۔وہ بایاں ہاتھ آگے کر دیتا ہے اور ہم اپنا دایاں ہاتھ پیچھے کر لیتے ہیں پہلے اس کو سمجھ نہیں آتی یہ کیا ہو گیا جن کے ساتھ دو تین