خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 138 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 138

خطابات ناصر جلد دوم ۱۳۸ اختتامی خطاب ۲۸ ؍دسمبر ۱۹۷۵ء آپ کو بات بتا رہا ہوں اور میری شنید بھی ہے میں نے اس کے متعلق پتہ بھی لیا ہے۔امریکن یہ کرتا ہے۔مثلاً اس کے سامنے گوشت کی بڑی بوٹی ہو اور وہ اسے کاٹنا چاہے تو وہ دائیں ہاتھ میں چھری پکڑتا ہے بائیں ہاتھ میں کانٹا پکڑتا ہے اور اس کی چھوٹی چھوٹی بوٹیاں کر لیتا ہے پھر چھری کو رکھ دیتا ہے اور دائیں ہاتھ میں کانٹا پکڑتا ہے اور کھانا شروع کر دیتا ہے لیکن ایک مسلمان کو یہ پتہ ہی نہیں۔یہ نہیں کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے جانتے بوجھتے ہوئے بغاوت کرتا ہے ممکن ہے کچھ ایسے مسلمان بھی ہوں لیکن عام طور پر ایسا نہیں ہے ان کے علم میں نہیں لایا گیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے۔كُلُّ بِيَمِيْنِكَ وَكُلُّ مِمَّا يَلِيْكَ (صحیح بخاری کتاب الاطعمة) کہ اپنے دائیں ہاتھ سے کھاؤ اور اپنے سامنے سے کھاؤ۔شروع زمانہ میں لوگ اکٹھے کھانا کھایا کرتے تھے اس وقت تو یہ حکم اور بھی زیادہ ضروری تھا لیکن ایک چھوٹی سی پرچ میں کوئی چیز میرے سامنے آتی ہے تو محمدصلی اللہ علیہ وسلم کا پیار پھر بھی مجھے مجبور کرتا ہے کہ میں اس میں سے سامنے سے نوالہ اٹھاؤں اور کبھی ادھر اور کبھی اُدھر ہاتھ نہ لگاؤں۔یہ ہے وحشی انسان سے انسان بنانا یا یوں کہو کہ وحشی سے انسان بنانا۔یہ اخلاق کا نچلا درجہ ہے جسے ہمارے اسلامی محاورہ میں ادب و آداب کے الفاظ سے یاد کیا جاتا ہے۔کھانے کے متعلق اسلام نے عجیب پر حکمت تعلیم دی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ کھانا شروع نہ کرو جب تک کہ تمہارے سامنے پینے کے لئے پانی کا انتظام نہ ہو اور اب یہ حقیقت ہے کہ دنیا میں بہت سی اموات ہو جاتی ہیں کہ پانی نہیں تھا اور نوالہ گلے میں پھنس گیا۔جو شخص اتنا پیار کرتا ہے آپ سے کہ اس کو یہ پسند نہیں ہے کہ میرے ماننے والوں میں سے کسی کے گلے میں نوالہ پھنس جائے اور دم نکل جائے وہ کتنا پیار کرنے والا وجود ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے چودہ سو سال پہلے ہمیں یہ ہدایت دی اور یہی بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں کوئی پرواہ نہیں۔وحشی سے انسان بنانا جو بات ادب کے دائرہ کے اندر آتی ہے بالکل دوسری قسم کی وہ ہے۔جنسی تعلقات کے اوپر آداب کے لحاظ سے جو پابندی لگائی گئی ہے۔عرب میں لوگ ماں سے شادی کرنے کو جائز سمجھتے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قرآن کریم کی وحی کے نتیجہ میں حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ أُمَّهُتُكُمْ (النساء:۲۴) آپ میں سے کئی یہ آیت پڑھتے ہوں گے تو کہتے ہوں گے کیا انسان اپنی ماں سے بھی شادی کر سکتا ہے؟ لیکن عرب شادی کر رہا تھا