خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 136
خطابات ناصر جلد دوم ۱۳۶ اختتامی خطاب ۲۸ ؍دسمبر ۱۹۷۵ء روز مرہ کا عمل اور دستور تھا۔وہ اس پر عمل پیرا تھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جب اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کی طرف مبعوث فرمایا تو آپ نے فرمایا کہ جس تہذیب اخلاق کے لئے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعوی کیا تھا اور جن مکارم اخلاق کا اتمام کیا تھا اور گویا آپ پر اتمام نعمت ہو گئی تھی اسی تہذیب اخلاق کے لئے خدا نے مجھے حکم دیا ہے کہ ساری دنیا میں اسلامی اخلاق کی تہذیب کی جائے۔تہذیبیں بھی مختلف ہوتی ہیں لیکن ہم محاورہ اسلامی تہذیب کہہ سکتے ہیں جسے دنیا میں قائم کرنے کے لئے آپ کو بھیجا گیا ہے۔اب ایک تہذیب امریکہ کی ہوگی۔ایک یورپ کے مختلف ملکوں کی ہوگی۔تاریخ میں یورپ کی تہذیب بہت مشہور رہی ہے پھر اس کے بعد ایک روس کی تہذیب آگئی مگر بڑے فرق کے ساتھ ، پھر اب اور زیادہ فرق کے ساتھ چین کی تہذیب آگئی لیکن مہدی علیہ السلام جن کو اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک عظیم روحانی فرزند بنا کر دنیا کی طرف بھیجا آپ کی بعثت کا اصل مقصد تہذیب اخلاق ہے۔اخلاق کے متعلق یا درکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو مختلف قوتیں اور استعداد میں دی ہیں اور جیسا کہ میں مختلف مضامین کے سلسلہ میں متعدد بار بتا چکا ہوں انسان کو جسمانی، ذہنی، اخلاقی اور روحانی طاقتیں دی گئی ہیں لیکن جسمانی طاقتوں اور ذہنی طاقتوں اور اخلاقی طاقتوں اور روحانی طاقتوں کی تہذیب کے لئے اللہ تعالیٰ نے کچھ احکام جاری کئے ہیں اگر ان طاقتوں کو ان کے حال پر چھوڑا جائے تو قرآن کریم کہتا ہے کہ پھر انسان کا نفس امارہ ان طاقتوں کا استعمال کچھ اس رنگ میں کرتا ہے کہ وہ نیکی کی طرف لے جانے کی بجائے بدی کی طرف لے جاتا ہے لیکن جس مقصد حیات کے لئے اسے پیدا کیا گیا ہے یعنی یہ کہ انسان خدا تعالیٰ کے حقوق کو کامل طور پر ادا کرے لیکن نفس امارہ کی وجہ سے وہ ان حقوق کو ادا نہیں کر سکتا اور ذمہ داری کو بجالا نہیں سکتا۔غرض انسان کی طبعی حالتوں پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تفصیل سے روشنی ڈالی ہے میں اس میں نہیں جاؤں گا۔کیونکہ میرا مضمون کچھ مختلف ہے آپ نے یہ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو قو تیں اور استعدادیں دیں اور جوارح دیئے مثلاً ہمیں آنکھ دی اور کان دیئے اور زبان دی اور دوسری جسمانی طاقتیں دیں ان کو ترقی دے کر اخلاقی حالت میں لانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک نظام قائم کیا۔ایک تو اندرونی نظام ہے۔ہر ایک انسان کے ساتھ جہاں نفسِ امارہ لگا ہوا ہے