خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 130 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 130

خطابات ناصر جلد دوم ۱۳۰ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۵ء چندوں کے علاوہ ان تین سالوں میں ترتین لاکھ روپے ادا کرنے کی توفیق دی تھی اور اب وہ جو فساد کا سال، آگ کا سال ، لوٹ کا سال، نفرت کا سال ، حقارت کا سال تھا اور ہماری طرف سے ان کے لئے دعائیں کرنے کا سال ، ان کی خاطر گڑ گڑانے کا سال اور اپنے رب کے حضور جھک کر اس کو یہ کہنے کا سال تھا کہ خدایا ان کو اپنے غضب اور قہر سے محفوظ رکھ اور ان کے لئے اپنی رحمتوں کے سامان پیدا کر۔اس میں ہم اپنی جگہ اپنا کام کرتے رہے اور خدا کے فضل سے ہم نے دیکھا کہ خدا نے ہماری نیک نیتوں اور مخلصانہ دعاؤں کا یہ بدلہ دیا کہ ان دوسالوں میں جماعت نے اس میدان میں اتنی قربانی دے دی جتنی کہ اس سے پہلے تین سالوں میں نصرت جہاں ریز روفنڈ میں دی تھی۔۷ ستمبر ۱۹۷۴ء کو ہماری نیشنل اسمبلی نے یہ قرارداد پاس کی کہ دستور یا قانون کی اغراض کے لئے احمدی مسلمان نہیں سمجھے جائیں گے۔یہ ہے قرار داد که دستور یا قانون کی اغراض کے لئے احمدی مسلمان نہیں سمجھے جائیں گے اور یہ بات بالکل واضح ہے کہ شریعت حقہ مسلمہ کا وہ فقہی حصہ جس کو قانون میں باندھا جا چکا ہے اس کے متعلق پھر وہ یہ کہیں گے کہ جب قانون کی اغراض کے لئے آپ کو مسلمان نہیں سمجھا جائے گا تو شریعت کے اس حصہ کا جو قانون بن چکا ہے اس کا آپ کے اوپر اطلاق بھی نہیں ہوگا۔یہ نتیجہ تو واضح ہے لیکن اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ ہمارے جو آپس کے فقہی تعلقات ہیں۔جن کو فقہ اسلامیہ یا فقہ یا قانون باندھتا ہے اور جن کی تدوین کرتا ہے ان کے متعلق فیصلے وہ قانون کرے گا وہ ہم نہیں بنائیں گے یہ نتیجہ تو نہیں نکلتا دنیا کی کوئی عقل سے ستمبر کے فیصلے سے یہ نتیجہ نہیں نکالتی۔اس واسطے یہ ضروری ہو گیا کہ ہم فقہ احمدیہ کی تدوین کریں اور اس وقت میں اس کا اعلان کرتا ہوں۔کچھ دوست میں نے کام پر لگائے تھے چنانچہ نکاح اور ورثہ کے متعلق فقہ احمدیہ کے دو بابوں کا ابتدائی کام ہو چکا ہے۔ہم اپنی یہ فقہ جماعت کی شوریٰ میں پیش کریں گے اور جماعت فیصلہ کرے گی کہ یہ فقہ ہے جس کے قانون کی پابندی جماعت احمد یہ کرے گی اور جس کے قانون کی پابندی اگر حکومت نے کروانی ہوئی تو وہ جماعت احمدیہ سے کروائے گی یہ نہیں کہ زید اور بکر جس کا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں وہ ہمارے لئے قانون بنانا شروع کر دے۔ی اتنی نا معقول بات ہے کہ کوئی سین ( sane) آدمی اس کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں۔پس