خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 124 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 124

خطابات ناصر جلد دوم ۱۲۴ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۵ء بڑے صاحب اقتدار اور بڑے بڑے مالدار لوگوں کی طبیعتوں پر یہ اثر ڈالا کہ جماعت احمدیہ کے ڈاکٹروں کے ہاتھوں میں خدا تعالیٰ نے شفا رکھی ہے اس واسطے وہاں جاؤ۔چنانچہ جب امیر آدمی وہاں آتا تھا تو وہ اس سے پیسے لیتے تھے اور خوب پیسے لیتے تھے کیونکہ غریب آدمی پر خرچ کرنے ہیں ہم یہاں تو نہیں لے کر آتے۔چنانچہ مختصراً اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ نصرت جہاں ریز روفنڈ میں جماعت کے عطیے کی کل وصولی تو ترپن لاکھ ترین ہزار کے قریب تھی لیکن یہ ساری وصولیاں اور بچت ملا کر ایک کروڑ ستاسی لاکھ کی رقم بن گئی اور جماعت نے شروع میں جو تر پن لاکھ روپیہ بطور سرمایہ کے دیا تھا اس میں سے بھی ۲۷لاکھ روپیہ بھی ہمارے پاس موجود ہے اس کا مطلہ ہے کہ عملاً چھبیس لاکھ روپیہ خرچ ہوا ( ویسے خرچ تو زیادہ ہوا تھا لیکن پھر کچھ روپیہ واپس آ گیا۔) چنانچہ اس وقت میرے سامنے جو شکل ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے چھبیس لاکھ روپیہ خرچ کروایا اور ہمیں ایک کروڑ ستاسی لاکھ روپیہ کی آمد ہوئی۔گویا ایک کروڑ ساٹھ لاکھ روپیہ منافع ہوا اور اس رقم سے ہم نے وہاں ہسپتال بنائے جو کہ حکومت کے ضلعے کے ہسپتالوں سے بھی بڑے ہیں اور ان کی بڑی شاندار بلڈنگیں ہیں ان میں بڑا قیمتی سامان رکھا اور اوزار اور دوائیاں منگوا کر دیں اور بڑا خرچ کیا مثلاً آپریشن ٹیبل ہی تین ہزار پاؤنڈ میں آیا۔میں نے شاید پچھلے سال بتایا تھا کہ وہاں کوئی یورپین سیکرٹری آگیا تھا اس نے کہا کہ جب تک تمہارے پاس پچاس ہزار روپے کی آپریشن ٹیبل نہیں ہوگی اس وقت تک تم آپریشن نہیں کر سکتے۔اپنڈے سائیٹس کا مریض درد سے تڑپ رہا ہے لیکن تم اس کا آپریشن نہ کرو وہ بے شک مر جائے۔یہ تو بڑا سخت تعصب تھا۔جب تعصب آتا ہے تو اس قسم کی حرکتیں کیا کرتا ہے۔خیر انہوں نے لکھا کہ یہاں آپریشن ٹیبل مل رہی ہے چونکہ ہمیں تنگ کر رہے ہیں اس لئے آپ اجازت دے دیں کہ ہم زائد رقم خرچ کر دیں۔چنانچہ وہ دو ہزار پاؤنڈ کی بجائے تین ہزار پاؤنڈ میں مل رہی تھی یعنی ڈیڑھ گنا قیمت پر۔میں نے کہا کہ لے لو۔ہم وہاں ان لوگوں کا علاج کرنے کے لئے اور ان کی خدمت کرنے کے لئے گئے ہیں۔وہ خود تو بڑے اچھے لوگ ہیں لیکن بعض غیر ملکی اس بات کو نہیں سمجھتے اور اس قسم کے لوگ کوئی تحکیم سے اور کوئی کہیں اور سے آئے ہوئے تھے اور یہ لوگ بیچ میں فتنہ پیدا کر رہے تھے۔بہر حال ایک کروڑ ساٹھ لاکھ روپیران عمارتوں پر خرچ ہوا