خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 106 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 106

خطابات ناصر جلد دوم 1+4 دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۵ء ہیں اور ان کی کشتی ہو رہی ہے۔ان کو بھی ہم نے کہنا ہے کہ بھلے مانسوں کی طرح پرے پرے ہو جاؤ لڑنے کا کیا فائدہ۔خدا تعالیٰ کی ہدایت آگئی ہے اور اسلام کے غلبہ کے ایام آ گئے ہیں۔تمہارے مسئلے ہم حل کر دیتے ہیں۔روس نے ساری دنیا میں یہ ڈھنڈورا پیٹا ہے کہ ہم غریب کے بڑے ہمدرد اور خیر خواہ بن کر آ گئے ہیں Proletariat of the world unite که ساری دنیا کے عوام جن کا استحصال ہو رہا ہے وہ اکٹھے ہو جائیں ہم آگئے ہیں۔یہ ان کا پرانا نعرہ تھا کہ لیپیٹلزم (Capitalism) یعنی سرمایہ دارانہ نظام تمہارا استحصال کر رہا ہے اس لئے تمام پرولیٹیریٹ (Proletariat) یعنی جن کا استحصال ہورہا ہے اکٹھے ہو جائیں لیکن اب چند سال ہوئے کہ اچانک ہم نے دیکھا کہ انہوں نے خود ہی آپس میں سمجھوتہ کر لیا اور آدھے وہ لوگ جن کے متعلق کہتے تھے کہ امریکہ کا سرمایہ دارانہ نظام ان کا استحصال کر رہا ہے ان کو روس نے امریکہ کے زیر اثر کر دیا اور آدھے اس نے خود سنبھال لئے۔پس وہ Proletariat of the world unite کا نعرہ تو ختم ہو گیا اور حلقہ اثر و رسوخ محدود اور تنگ ہو گیا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ تم نے جو دینے کا وعدہ کیا تھاوہ تم دے نہیں سکے اور یہ اس واسطے ہے کہ انسانی عقل خدا تعالی کی رہنمائی کے بغیر ایک بھٹکتی ہوئی روح ہے جس کی کوئی منزل نہیں ہے۔اس وقت میں نے کتابوں اور اخباروں کے متعلق اعلان کرنا تھا لیکن اس سے پہلے میں نے علم کے سیکھنے اور خود کو اس بشارت کا اہل بنانے کی ضرورت بیان کی ہے کہ ہم علوم جدیدہ کے حملہ کا منہ بند کرنے والے ہوں۔ایک تو ہمارے نزدیک ان کے حملہ کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔جس اسلام پر ہم ایمان لاتے ہیں اسے علوم جدیدہ کے کسی حملے کا کوئی خطرہ نہیں ہے اور خدا کے فضل سے ہم جواب دینے کے لئے تیار ہیں اور اُن کو بھی اور اپنے نوجوان کو بھی سمجھا کر قائل کر دیں گے کہ جس کو تم حملہ کہتے ہو اس میں تو جان ہی نہیں ہے اگر کوئی دیمک خوردہ نیزے کے ساتھ جو کہ اندر سے بالکل کھایا گیا ہو اور اوپر باریک سا چھلکا ہی رہ گیا ہو کسی پر حملہ کر دے تو اس کے ہاتھ کا نیزہ ہی ٹوٹے گا دوسرے آدمی کو تو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ان کے حملوں کا یہی حال ہے اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے ان کے اندر اتنے تضاد اور Contradictions ہیں کہ آدمی حیران ہو جاتا ہے کہ اس عقل کے برتے پر تم ساری دنیا کے عقل مند بنے پھرتے تھے۔اگر مہدی علیہ السلام نہ