خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 611 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 611

۲۲۱ ۲۲۱ ۲۲۲ ۲۶۲ ۲۶۴ ۲۷۳ ۲۹۸ ۳۰۴ ۴۳۰ ۴۳۰ ۴۳۰ ۴۳۰ میرے دل کی تڑپ ہے کہ قرآن کریم کی قرآن کریم کے ذریعہ عقل کو الہامی نور عطا کثرت سے اشاعت کی جائے ۱۸۱ ہوا ہے تفسیر قرآن کریم حضرت مسیح موعود علیہ اگر انسان نے روحانی رفعتوں کو پانا ہے تو السلام تیار کروانے کا مطالبہ ۱۷۹ اسے قرآن کریم کی تعلیم پر چلنا پڑے گا میں چاہتا ہوں کہ ان سالوں میں کئی لاکھ خدا تعالیٰ نے قرآن عظیم میں ہر قوت اور نسخے قرآن کریم کے دُنیا میں پھیل جائیں ۱۸۷ طاقت کو صحیح راستہ دکھایا ہے قرآن کریم میں علم کا خزانہ بھرا ہوا ہے ۱۹۷ قرآن کریم سیکھنا اور پھر اس کے مطابق عمل قرآن میں وہ سب کچھ موجود ہے جس کی کرنے کی کوشش کرنا یہ تو ہماری جان ہے ۲۰۴ قرآن کریم تمام علوم کا حامل ہے آج کی دنیا کوضرورت ہے قرآن کریم بتاتا ہے کہ اسلامی تعلیم کیوں ہوٹلوں کے ہر کمرہ میں قرآن کریم ۲۰۷ رکھوانے کی سکیم برتر ہے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو حق کے ساتھ اہلیت کے مطابق سلوک ہونا چاہیئے قرآن کریم ۲۰۹ نے کافر اور مسلم میں کوئی تفریق نہیں کی نازل کیا ہے قرآن کریم وحی کے ذریعہ نازل ہونے قرآن کریم نے بلا امتیاز مذہب وملت بلا امتیاز نیک و بدسب کے حقوق قائم کئے ہیں والی کتاب ہے ۲۱۵ قرآن کریم بے مثل مانند ہے اس پایہ کا کلام قرآن کریم اپنی روحانی تاثیرات میں ابدی کوئی انسان بناسکتا ہے اور نہ کبھی بنا سکے گا ۲۱۶ ہے دُنیا کا کوئی عظمند انسان ایسا نہیں جو قرآن کریم قرآنی تعلیم درخت انسانی کی ہر شاخ کو سیراب کرنے والی ہوگی کے کسی ایک اصول کی نقل ہی بنا سکتا ہو ۲۱۶ قرآنی تعلیم فطرت انسانی کے سب حقیقی قرآن کریم نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ میں بے تقاضوں کو پورا کرنے والی ہے مثل و مانند ہوں ۲۱۷ قرآن کریم اپنے ذاتی کمالات اور فضائل قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا کلام ہے کوئی اس کا اور بے نظیر تعلیمات سے اپنی ضرورت اور مقابلہ نہیں کر سکتا ۲۱۹ صداقت کو ثابت کرتی ہے