خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 596
۲۶ ۲۶ Σ ۲۶ ۲۸ ۳۱ خدا تعالیٰ جماعت احمدیہ کے افراد کو ہر قسم کی ہم نوع انسانی کے مردہ جسموں کو روحانی اور تلخیوں سے محفوظ رکھے اخلاقی طور پر از سر نوحیات بخشیں گے جماعت احمدیہ کے دل میں سیاسی اقتدار کی ہم نوع انسانی کے دلوں کو پیار اور محبت سے ۲۱ جیتیں گے کوئی خواہش نہیں ہے حضرت محمد مصطفی مالیہ سے جدا ہو کر ہماری دنیا کے دکھوں کو حقیقی طور پر سوائے احمدیت زندگی زندگی نہیں رہتی خدا تعالیٰ کی طرف پیٹھ پھیر کر ہمیں زندہ رہ کر کیا کرنا ہے ۲۱ کے اور کوئی دور نہیں کر سکتا ۲۱ ہم پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ نوع انسانی کو امت واحدہ بنانے کے لئے قربانیاں دیں جماعت احمد یہ دنیا میں اسلام کی سربلندی دنیا میں ایک جماعت احمدیہ ہی ہے جس کے لئے جدو جہد کر رہی ہے بعض لوگ ہم سے نفرت کرتے ہیں مگر اس کے برعکس ہماری آنکھوں میں وہ اپنے لئے پیار اور محبت کا ایک سمندر موجزن پاتے ہیں ہمیں لوگوں کے غضب اور غصے اور نفرت کی آگ کے شعلوں کو اپنی شفقت اور پیار کے پانی کے ساتھ بجھانا ہوگا احمدی دنیا کی ہلاکت کے لئے پیدا نہیں ۲۲ ۲۴ ۲۶ میں استقلال پایا جاتا ہے ہمارے سر زمین سے کبھی نہ اٹھیں اور کبھی بھی ہمارے دلوں میں فخر اور غرور اور کبر پیدا نہ ہو اگر تم تکلف کرو گے تو پھر آنحضرت ﷺ کا اسوہ حسنہ اختیار نہیں کرسکو گے ہمیں جو کچھ چاہیئے وہ خدا کی تو حید کے قیام اور نوع انسانی کی خاطر چاہیئے ہوئے بلکہ دنیا کو زندگی دینے کے لئے پیدا ہمارے دل میں یہی شوق ہے کہ دنیا کے ہر دل کئے گئے ہیں ۲۶ ۲۶ میں خدائے واحد و یگانہ کی محبت پیدا ہو جائے ہم حضرت محمد مصطفی امیہ کے چراغ سے نور خدا تعالیٰ کی خاطر مسجدیں بنانا ہمارا فرض ہے لے کر نوع انسانی کے دلوں کو منور کریں گے تم حصول علم میں ان سے بھی آگے نکل سکتے خدا تعالیٰ اپنے فضل سے ہماری حقیر کوششوں کو ہو کیونکہ علموں کا خزانہ تو کبھی بند نہیں ہوا نواز تا اور ہماری کمز ور دعاؤں کو قبول کر لیتا ہے ہمیں مختلف زبانوں کے جاننے والے اور ہماری توقع سے بڑھ کر نتائج نکالتا ہے ۲۶ سینکڑوں آدمی درکار ہیں ۳۳ ۳۴ ۳۴ ۳۵ ۳۶ ۵۲