خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 591 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 591

اگر کسی کی استعداد ضائع ہوتی ہے تو گویا اس قانون قدرت انسان کے نیک و بد ، مومن اور ۲۰۶ کا فرکو فائدہ پہنچانے میں کوئی فرق نہیں کرتا ۲۸۱ کا حق مارا جا رہا ہے ہر دوسری زندہ چیز کو انسان کا خادم بنایا انسان کی پیدائش سے بھی پہلے یہ زمین اور یه آسمان انسان کے استقبال کے لئے انسان کو ساری صلاحیتیں اس لئے دی گئی تیاریاں شروع کر چکے تھے انسان کو احسن تقویم میں پیدا کیا گیا ہے ۲۰۸ ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کا بندہ ہے وہ ۲۱۰ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اعتدال بخشا اور ترقی کرنے ۲۸۳ ۲۸۶ ۲۸۸ کے لئے اسے کامل طاقتیں عطا کیں اس عالمین کی ہر شے کو بلا استثناء انسان کی خدمت کا حکم ہے انسان کو اس عالمین سے خدمت لینے کی قو تیں اور استعدادیں دی گئی ہیں انسان کی بنائی ہوئی چیز بھی بمثل و ماند نہیں انسان ہر وقت اور ہر جگہ دعا کرسکتا ہے انسانیت کو خطرات سے بچانے کے لئے ۲۱۰ ۲۱۱ ۲۱۶ ۲۳۹ عیب اور کبھی انسان کی اپنی غفلت اور گناہ کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے انسان کو کہا گیا جب تک زندہ ہو آخری سانس ہے اس وقت تک تم اپنی حالت بدل سکتے ہو انسان کی پیدائش کا مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ۲۸۸ ۲۹۱ ۲۹۲ ۲۹۳ ۲۹۳ ۲۹۶ ۲۹۷ صفات کا رنگ اس کی صفات پر چڑھے گا علمی میدانوں میں بھی کوشش کریں اور ان انسان پر زندگی میں کبھی بھی تو بہ کے اور خدا کے لئے دعائیں بھی کریں ۲۴۵ کی طرف واپس لوٹنے کے دروازے بند انسان کی فطرت میں یہ رکھا ہے کہ وہ اللہ نہیں کئے گئے تعالیٰ کے ساتھ ایک تعلق قائم کرے ۲۷۵ انسان کو صاحب اختیار بنایا وہ بھٹک بھی جاتا انسان خود اپنے طور پر اپنی پیدائش کا مقصد ہے اپنی غفلت یا اباء اور استکبار کے نتیجہ میں نہ پاسکتا ہے نہ بیان کرسکتا ہے انسان کی پیدائش کا اصل مدعا خدا تعالیٰ کی پرستش، کو عطا کی ہیں ان کو امانات بھی کہا گیا ہے معرفت اور خدا تعالیٰ کے لئے ہو جانا ہے ۲۷۶ خدا تعالیٰ نے انسان کی جو قوتیں اور انسان مخدوم ہے اور تمام کائنات اس کی صلاحتیں پیدا کی ان کی کامل نشو ونما کے ۲۸۰ سامان پیدا کئے ہیں ۲۷۵ خدا تعالیٰ نے جو قو تیں اور استعداد میں انسان مخدوم ہے