خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 584
۲۰۶ ۲۱۴ ۲۲۹ ۲۲۹ ۲۳۴ ۲۳۴ ۲۳۷ ۲۳۹ ۲۵۸ ٣٠٣ ۱۳ اسلام گندگی کو دور کرتا ہے لیکن اسلام اپنے اسلام نے ہمیں بنی نوع انسان سے پیار کرنا ماننے والوں کو مشقت میں نہیں ڈالتا ۱۴۰ سکھایا ہے اسلام ایک وحشی کو آداب سکھا کر انسان بناتا ہے ۱۴۱ اسلام کہتا ہے ہر ایک فرد واحد کو اس کا حق ملنا اسلام میں انسان کا ہر فعل اور حرکت اور ہر قوت کو آداب کے اندر باندھ دیا گیا ہے ۱۴۲ چاہیئے اسلام کہتا ہے عقل کو ہم نے الہام کا رفیق اسلام ایذاء رسانی کی اجازت نہیں دیتا خواہ وہ مسلمان عطا کیا ہے ہو یا کسی اور مذہب سے تعلق رکھنے والا ہو ۱۴۵ اسلام کو چھوڑ کر ہم نے زندہ رہ کر کیا کرنا ہے اسلام دلوں کو موہ لینے والا مذ ہب ہے ۱۴ ساری دنیا کی طاقتیں مل کر بھی ہمیں اسلام خدا تعالیٰ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اسلام ساری سے پرے نہیں لے جاسکتیں دنیا میں غالب آئے گا اسلام نے زندگی کو مہذب بنایا اس کی ہر بلکہ پیار ،محبت اور خدمت کے جذبہ کے ۱۵۱ غلبہ اسلام ایٹمی ہتھیاروں کے ساتھ نہیں ۱۵۳ | ساتھ ہوگا ضرورت کو پورا کیا ہے اسلام نے زندگی کے ہر پہلو کے متعلق تعلیم جن قوموں نے داخل ہو کر اسلام کو غالب کرنا ۱۵۳ ہے ان کے ہراول دستے پیدا ہو چکے ہیں دی ہے اسلام انسان کی فطرت کی آواز ہے ۱۵۴ اسلام میں وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کی اسلام کسی کو مشقت میں نہیں ڈالتا ۱۵۴ بہت تاکید کی گئی ہے اسلام تو پیار،اخوت اور محبت کا مذہب ہے ۱۷۲ اسلام ایک بڑا عظیم مذہب ہے اس نے اسلام کا مطلب ہے کہ خدا تعالیٰ کی رضا کے دعا کے لئے کسی جگہ یا وقت کی تعیین نہیں کی حصول کے لئے اسلامی تعلیم کی چھری اپنی مغربی افریقہ میں اسلام کی روکافی تیز ہوگئی ہے گردن پر رکھ دے اگر اسلام کو غالب کرنا ہے تو قرآن کریم اور تفریق عقیدہ حق قائم کیا ہے ۱۷۹ اسلام نے امراء کے اموال میں سائل کا بلا تمیز ان کے ہاتھ میں پکڑاؤ اسلام سیاست بھی ہے اسلام اقتصادیات اسلام تو نری خوشی، نرا پیار اور نری محبت ہے ۱۸۱ بھی ہے اسلام معاشرہ بھی ہے