خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 562
خطابات ناصر جلد دوم ۵۶۲ اختتامی خطاب ۲۸ / دسمبر ۱۹۸۱ء ملاقاتوں میں کئی آدمی بڑے پریشان کہ دعا کریں بچہ نہیں ہوتا یادعا کریں لڑکا نہیں ہورہا۔کیوں دعا کرواتے ہیں۔آپ نے موٹی بات ہے لیکن کبھی سوچا ہوگا کبھی نہ سوچا ہو گا۔وہ اس لئے کرواتے ہیں کہ مر جائیں گے ہماری آگے نسل کیسے چلے گی۔تو بیٹے کا تصور ہم سے یہ باور کروانا چاہتا ہے کہ نعوذ با اللہ الہ تعالیٰ پر فنا آ سکتی ہے۔جب وہ مرجائے نعوذ بااللہ تو کوئی بیٹا ہونا چاہئے جو اس کے تخت کے اوپر بیٹھ جائے۔یہ خرابی پیدا ہوتی ہے اس میں۔اس واسطے اللہ پاک ہے اس بات سے کہ اس کے کوئی بیٹا ہو۔دوسرے بیٹا ہونے کے لئے بیوی کی حاجت ہے۔اللہ پاک ہے اس بات سے کہ اسے کسی اس قسم کے ساتھی کی احتیاج ہو۔پھر کہتے ہیں ایک بیٹا بنا تو دوسرا باپ بھی بن گیا نا۔تو پھر جو بیٹا خدا ہے اُسے ماں کی احتیاج۔باپ کی احتیاج ہو گی۔دوا حتیا جیں اکٹھی ہو گئیں۔پھر یہ ہے کہ جو حقیقت اس دنیا میں چل رہی ہے مرد اور عورت۔لڑکا اور لڑکی بیا ہے جاتے ہیں۔پھر ان کے تعلقات قائم ہوتے ہیں۔پھر ایک بچہ ہوتا ہے۔ہر دو کے جسم کے اجزاء میں سے حصہ لیتا ہے۔بڑی موٹی بات ہے۔ہر بچہ جو پیدا ہوتا ہے مثلاً نئی شادی ہوئی پہلا بچہ پیدا ہو گیا مثال کے طور پر میں وہ لیتا ہوں۔اس بچے نے یہ اعلان کیا کہ میرے جسم میں میری ماں کا بھی حصہ ہے اور میرے باپ کا بھی حصہ ہے۔تو خدا تعالیٰ کی خدائی ، وجود جو تھا وہ حصوں میں بٹ گیا نا۔پھر وہ ایک تو نہ رہا۔پھر اس کے اجزاء علیحدہ علیحدہ ہو کے بٹنے شروع ہو گئے اور کچھ تھوڑا بٹ کے علیحدہ ہونا یعنی تقسیم ہو جانا تھوڑی۔وہ امکان پیدا کرتا ہے کہ ساری خدائی بے شمار حصوں میں بٹ کے ختم ہو جائے۔تو عقلاً نا معقول ہے اور خدا تعالیٰ کی عظمتوں کے خلاف ہے اور اس کی صفت الصَّمَدُ کے خلاف ہے۔خدا تعالیٰ پاک ہے اس بات سے کہ اس پر مصائب نازل ہوں اور وہ سختیاں جھیلے۔آپ حیران ہوں گے کہ خدا تعالیٰ پر مصائب نازل کیسے ہو گئے اور سختیاں کیسے جھیلیں۔حضرت مسیح علیہ السلام پر۔مصائب نازل ہو گئے۔سختیاں جھیلیں۔صلیب پر لٹکا دیا۔کیل گاڑ دیئے۔ذلیل کرنے کی کوشش کی۔تو خدا تعالیٰ اپنی ذات میں یہ عظمت رکھتا ہے کہ وہ السلام اس کی ایک صفت ہے السلام۔کہ مصائب اور سختیوں سے محفوظ ہے۔یعنی اس خدا تعالیٰ کے ساتھ ہمارے رب کریم کے ساتھ