خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 501
خطابات ناصر جلد دوم ۵۰۱ اختتامی خطاب ۲۸ دسمبر ۱۹۸۰ء لے۔بزدلی نہیں دکھانی۔حضرت عیسی علیہ السلام نے کہا جو تیری ایک گال پہ چپیڑ مارتا ہے دوسری بھی اس کے آگے کر دے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نہ اتباع کی نہ اپنے ماننے والوں سے اتباع کروائی اور خدا سے نبوت حاصل کر لی۔لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے ذرہ بھر خلاف کرنا، خلاف جانا ہلاکت ہے خدا تعالیٰ کے غضب اور قبر کی آگ آپ کے او پر بھڑ کنی شروع ہو جائے گی۔اس وجہ سے خدا نے کہا کہ میں نے محمد کو افضل الرسل اور خاتم الانبیا بنادیا اور اسی وجہ سے ہم آپ کو، ان ساری چیزوں کو دیکھتے ہوئے۔افضل الرسل اور خاتم النبیین سمجھتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔”ہم جب انصاف کی نظر سے دیکھتے ہیں تو تمام سلسلۂ نبوت میں سے اعلیٰ درجہ کا جوانمرد نبی اور زندہ نبی اور خدا کا اعلیٰ درجہ کا پیارا بی صرف ایک مرد کو جانتے ہیں۔جس کا نام محمد مصطفی و احمد مجتبی صلی اللہ علیہ وسلم ہے اور جو شخص پیروی کرے گا وہ بھی پائے گا اور ایسی قبولیت اس کو ملے گی کہ کوئی بات اس کے آگے انہونی نہیں رہے گی۔زندہ خدا جو لوگوں سے پوشیدہ ہے اس کا خدا ہو گا۔اور جھوٹے خدا سب اس کے پیروں کے نیچے کچلے اور روندے جائیں گے۔“ (سراج منیر روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحه ۸۳٬۸۲) اور وہ آخری پہلو جو میں نے نوٹ کئے ہیں ان میں سے آخری یہ ہے کہ تمام انبیاء جو پہلے گزرے تھے ان میں جو بھی ہر نبی میں کمال تھا تمام انبیاء کے کمالاتِ متفرقہ جو تھے وہ اس ایک وجود میں جمع کر دیئے۔( نعرے) اور اس حقیقت کی طرف قرآنِ کریم کی آیت کا یہ حصہ اشارہ کرتا ہے۔فَيَهُدُهُمُ اقْتَدِه (الانعام:۹۱) تو ان تمام ہدایات متفرقہ کو اپنے وجود میں جمع کر لے جو ایک نبی خاص طور پر اپنے ساتھ رکھتا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم تمام ان اخلاق فاضلہ کا جامع ہیں جو نبیوں میں متفرق طور پر پائے جاتے تھے اور نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں فرمایا ہے۔إِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ ( القلم : ۵) تو خلقِ عظیم پر ہے۔۔۔اس آیت کا مفہوم ہے کہ جہاں تک اخلاق فاضلہ و شمائل حسنہ نفسِ انسانی کا حاصل ہو سکتے ہیں وہ تمام اخلاق کاملہ نامہ نفس محمدی میں موجود ہیں۔سو یہ تعریف ایسی اعلیٰ درجہ کی ہے جس سے بڑھ کر ممکن نہیں۔اور