خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 484 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 484

خطابات ناصر جلد دوم ۴۸۴ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۸۰ء گھنٹے کام کرنا چاہتا ہوں۔تو جتنا کم سے کم کھانا میں کر سکتا ہوں وہ کر دیتا ہوں لیکن جو خلا پیدا ہو جاتا ہے اس میں کوئی چیز تو بھری جانی چاہئے۔آپ اپنی دعاؤں سے اس خلا کو پُر کر دیں۔میں بھی دعا کرتا ہوں۔آپ بھی کریں اللہ تعالیٰ کام لیتا رہتا ہے۔اصل چیز تو زندگی میں کام ہے۔اصل زندگی ہے ہی کام کا نام اور ایسے اعمال کا نام جن سے خدا راضی ہو جائے اور وہ مقبول اعمال بن جائیں۔اللہ تعالیٰ آپ کو بھی مقبول اعمال کی توفیق دیتا چلا جائے اور مجھے بھی توفیق دے کہ میں جب تک زندہ ہوں ایسے عمل کرتا رہوں جو اسلام کی عظمت کو قائم کرنے والے ہوں۔خدا تعالیٰ کی وحدانیت کو انسان کے دل میں گاڑنے والے ہوں۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا پیار جو ہے اور آپ کا جلال اور جمال جو ہے اس سے دنیا آشنا ہو جائے ان کے نتیجہ میں۔ایک دوسرے کے لئے دعائیں کرتے ہوئے غلبہ اسلام کی شاہراہ پر اللہ تعالیٰ ہمیں آگے سے آگے بڑھنے کی توفیق عطا کرتا چلا جائے۔السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔(نعرے) پھر حضور انور نے فرمایا نعرے لگاؤ۔نعرہ تکبیر۔اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر۔خاتم الانبیاء۔زندہ باد۔اسلام زندہ باد، زندہ با د احمدیت۔زندہ باد۔پھر حضور انور نے فرمایا۔ذرا ٹھہریں۔ذرا ٹھہریں۔اب میرے ساتھ شامل ہو جائیں۔لا اله الا الله لا اله الا الله لا اله الا الله لا اله الا الله _ لا اله الا الله لا اله الا الله لا اله الا الله لا اله الا الله اور پھر حضور انور نے فرمایا۔السلام علیکم ورحمته الله وبركاته از رجسٹر خطابات ناصر غیر مطبوعہ )