خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 461 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 461

خطابات ناصر جلد دوم ۴۶۱ افتتاحی خطاب ۲۶ دسمبر ۱۹۸۰ء اسلام کی خدمت میں آگے سے ہی آگے بڑھتے چلے جانا ہے۔انشاء اللہ تعالیٰ لیکن اس صدی میں جو اور ذمہ واریاں ہیں ان کے مد نظر میں کچھ اور اصولی ماٹو زآر دیتا ہوں اور وہ ہیں یہ۔محبت اور پیار - حمد ، عزم۔محبت و پیار عزم کا نتیجہ اور تعلق عمل سے ہے، کرنا کیسے کرنا، محبت اور پیار سے، دنیا کے دل ہم نے اس صدی میں خدا اور اس کے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے محبت اور پیار سے جیتنے ہیں۔ہم نے محبت اور پیار کرنا ہے۔ان لوگوں سے بھی جو آج خدا تعالیٰ کو گالیاں دینے والے ہیں۔ہم نے پیار کے ساتھ ان کو راہِ راست پر لانے کی کوشش کرنی ہے لیکن اس محبت اور پیار کے سب سے زیادہ مستحق وہ ہیں۔کا خر کنند دعوای حب پیمبرم ( در مشین فارسی صفحه ۱۰۷) ہمارے مسلمان بھائی، ان کو ہم نے محبت اور پیار سے ایک نقطہ پر جمع کرنے کی کوشش کرنی ہے تا کہ اسلام اور امت مسلمہ جو پہلے زمانوں میں بنیان مرصوص کی طرح دنیا کے سامنے کھڑی ہوئی اور تمام طاغوتی طاقتوں کو اس کے نتیجہ میں شکست ملی، پھر سے بنیان مرصوص بن جائے اور محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے نام کو آپ کی عزت اور احترام کو اور آپ کے نور اور حسن کو دنیا میں پھیلانے والے سارے ہی لوگ ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو جائیں اور کوئی اختلاف با ہمی نہ ہے اور یہ سب کچھ محبت اور پیار سے ہوگا۔اس واسطے سارے غصے دل سے نکال ڈالو۔ساری تلخیاں بھول جاؤ۔صرف اپنا مقصد سامنے رکھو کہ ہم نے محبت اور پیار سے دنیا کے دل جیتنے ہیں اور سب سے زیادہ مستحق ہماری محبت، ہمارے اس پیار کے وہ لوگ ہیں جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہونے والے ہیں۔اور چوتھا مائو خدمت یعنی حمد ، عزم، پیار، خدمت۔نوع انسانی یہ مطالبہ کر رہی ہے کہ ہمارے خیر خواہ پیدا ہوں۔دنیا یہ مطالبہ کر رہی ہے کہ دنیا انانیت کو چھوڑے اور خدمت کے مقام پر کھڑی ہو۔اگر ہر شخص دوسرے کی خدمت کے لئے تیار ہو جائے تو آج دنیا سے فسادمٹ جاتا ہے اور فساد نے مٹنا ہے اس صدی میں۔میں تمہیں بتارہا ہوں فساد نے مٹنا ہے اس صدی میں انشاء اللہ اور میرے اور تمہارے ہاتھوں سے مٹنا ہے اور ہمیں اس کے لئے قربانیاں دینی پڑیں گی اور ہم اس کے لئے قربانیاں دیں گے۔(نعرے)