خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 434 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 434

خطابات ناصر جلد دوم ۴۳۴ اختتامی خطاب ۲۸ دسمبر ۱۹۷۹ء بہت سے معانی ہیں قرآن کریم کے، ایک یہ الزام بھی تھا کہ ابراہیم علیہ السلام کی دعا تمہارے متعلق نہیں قبول ہوئی تم اس گروہ میں نہیں ہو یہ إِلَّا الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْهُمُ (البقرة : ۱۵۱) الزام باقی نہ رہے فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِى (البقرة : ۱۵۱) ان ظالموں سے مت ڈرو اور مجھ سے ڈرو۔یہ حکم میں نے اس لئے دیا ہے کہ تم پر لوگوں کا الزام نہ رہے تا کہ میں اپنی نعمت تم پر پوری کر دوں اور تاکہ تم ہدایت پاؤ آگے پھر وہ كَمَا أَرْسَلْنَا فِيكُمْ رَسُولًا مِنْكُمْ يَتْلُوا عَلَيْكُمْ (البقرة : ۱۵۲) اس : طرح جس طرح ہم نے تم میں تم ہی میں سے ایک رسول بھیجا جو تمہیں ہماری آیات پڑھ کر سنا تا ہے اور تمہیں پاک کرتا ہے اور تمہیں کتاب اور حکمت سکھاتا ہے اور تمہیں وہ کچھ سکھاتا ہے جوتم پہلے نہیں جانتے تھے۔پس جب میں اس قدر فضل کرنے والا ہوں تو تم مجھے یاد رکھو، میں بھی تمہیں یاد کرتا رہوں گا اور میرے شکر گزار بنو اور میری ناشکری نہ کرو اس میں لمبی تفصیل بھی ہوسکتی ہے لیکن اس وقت میں صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ وہی چار مقاصد لے کے مبعوث ہوئے۔اعلان کیا گیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس دعا میں جن چار مقاصد کا ذکر تھا ان مقاصد کے ساتھ مبعوث ہو گئے۔اور اسی دعا کے ساتھ تعلق ہے تبھی کہا ہے ناں شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ (البقرة : ۱۵۱) کا ذکر کر کے اور واضح اشارہ کر دیا کہ اس کے ساتھ تعلق ہے۔باقی جو ہیں پوائنٹس وہ میں چھوڑتا ہوں پھر چار جگہ یہ ذکر ہے چوتھی جگہ سورہ جمعہ میں ہے یہ اتفاق ہوا ہے کہ میرے کہے بغیر آج قاری صاحب نے وہی سورۃ جمعہ کی آیات پڑھ دیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے أفَمَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَ اللهِ كَمَنْ بَاءَ بِسَخَطٍ مِنَ اللهِ وَمَاومَهُ جَهَنَّمَ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ (ال عمرن : ۱۶۳) کہ وہ شخص جو اللہ کی رضا کے پیچھے چلتا ہے یعنی جو خدا چاہتا ہے وہ کرتا ہے کوئی ایسا کام نہیں کرتا کہ سمجھتا ہو کہ اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہو گا ، ہر وہ کام سمجھتا ہے کہ اللہ خوش ہوگا اللہ کو خوش کرنے کے لئے وہ کام کرتا ہے۔پھر میں سارے حصے نہیں لے رہا اس کے بعض چیزیں لے رہا ہوں آپ کو بات سمجھانے کے لئے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے هُمْ دَرَجتُ عِنْدَ اللهِ (ال عمران : ۱۶۴) وہ جماعت وہ امت مسلمہ جو خدا تعالیٰ کی رضا کی خاطر خدا کی خواہش کے مطابق اس کی ہدایت کی اتباع میں ، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں ، اعمال صالحہ بجالانے والے نہیں هُمْ دَرَجتُ عِنْدَ اللهِ (ال عمران : ۱۶۴) وه