خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 429 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 429

خطابات ناصر جلد دوم ۴۲۹ اختتامی خطاب ۲۸ دسمبر ۱۹۷۹ء تم میں سے ہر مرد اور ہر عورت کے لئے میں رحمت بن کر آیا ہوں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے ان مقاصد کا آخری مقصد جو میں نے منتخب کیا تھا وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا تھی۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے متعلق ابھی آؤں گا اس طرف لیکن بتا میں یہ رہا ہوں کہ پہلا مقصد بتاتا ہے کہ ان لوگوں نے جن کو کہا گیا تھا کہ یہ سارے انسانوں کے لئے ان کی فلاح و بہبود کے لئے ان کی بھلائی کے لئے ان کی خیر کے لئے پہلا گھر جو بنایا گیا، حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ہاتھوں از سر نو اس کی تعمیر ہورہی ہے وہ خانہ کعبہ ہے۔بڑی عظمت ہے خانہ کعبہ میں، لوگ اس کو بھی نہیں جانتے اسی واسطے میں نے پیچھے تحریک کی تھی کہ میرے خطبے پڑھ لو۔اور خدام الاحمدیہ پڑھوا بھی رہی ہے ( یہ اب میں ضمناً بات کر گیا ہوں بیچ میں بہر حال ) اور تیئیسواں مقصد میں نے لیا تھا یہ دعا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ، کہ اے خدا تو وہ رسول بھیج ان میں، جس کی تعلیم ، جس کی ذات، جس کی ابدی روحانی زندگی ، جس کے فیوض روحانی جو ہیں ان کا تعلق ہر انسان سے ہو خواہ وہ مشرق کا رہنے والا ہو یا مغرب کا، جنوب کا یا شمال کا ، براعظموں کا رہنے والا ہو یا چھوٹے چھوٹے جزائر میں بسنے والا ہو، ہر انسان کے ساتھ اس کا تعلق ہو۔اس لئے وہاں میں نے اشارے کئے تھے اپنے ان لیکچروں میں کہ ہمارے جو ہم کہتے ہیں کہ غلبہ اسلام کی صدی جو آ رہی ہے جماعت احمدیہ کے سارے پروگرام ان مقاصد کے گرد گھومتے ہیں جن کا میں نے ان میں ذکر کیا ہے مجھے افسوس ہے کہ میں آج، ویسے بھی شاید ممکن نہ ہوتا لیکن طبیعت کی خرابی کی وجہ سے جو تین دن سے میں ٹھیک نہیں محسوس کر رہا اس وقت بھی مجھے چکر آرہے ہیں لیکن ابتدا اس وقت ضرور کر دینا چاہتا ہوں آخری مقصد کو بیان کر کے ، وہی جو میں تفصیل سے بتاؤں گا کچھ میں نے پروگرام پہلے بتا دیئے تھے، صد سالہ جوبلی کے پروگرام وہ سارے تعمیر کعبہ کے مقاصد سے تعلق رکھتے ہیں لیکن وہ مختصر تھے ان میں وسعت پیدا کروں گا انشاء اللہ تعالیٰ، اللہ تعالیٰ کی توفیق کے ساتھ اور آپ کو بتاؤں گا کہ یہ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے ناں کہ۔قرآن کے گردگھوموں کعبہ میرا یہی ہے ( در نشین صفحه ۸۴) ہماری زندگی کا ہر پروگرام اور منصو بہ اللہ تعالیٰ کے کلام قرآن عظیم کے گردگھومنے والا ہے۔