خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 371 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 371

خطابات ناصر جلد دوم اختتامی خطاب ۲۸؍ دسمبر ۱۹۷۸ء سے جس طرح آپ اپنی جسمانی زندگی میں زندہ تھے۔بڑا ناشکرا ہے وہ دل جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مردہ سمجھتا ہے۔خدا کی قسم مردہ نہیں ، زندہ ہیں اور ہم نے اپنی زندگیوں میں آپ کی زندگی کے جلال اور جمال کو دیکھا ہے(نعرے) اب میں نے پہلوں کے بھی کچھ حوالے لیے آپ کو بتانے کے لئے جو ہمارے کانوں میں پڑے تھے اس وقت بڑی کثرت سے پہلوں نے یہ مسئلہ چھوڑا نہیں۔خدا تعالیٰ جزا دے ان کو۔انہوں نے بڑا کام کیا اس پر۔ابن عربی نے محی الدین ابن عربی بڑے مشہور ہمارے بزرگ ہیں اور صوفی ہیں انہوں نے اپنی تفسیر کی جلد اول ۸۲ صفحہ پر لکھا ہے لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ (النِّسَاء :۱۶۰) کے نیچے، انہوں نے قرآن کریم میں کہا ہے کہ بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ ( النساء : ۱۵۹)۔صلیب پرو مرے نہیں اور منصوبہ یہود کا کہ صلیب پر لٹکا کے مار کر ان کا ملعون ہونا ثابت کریں ، یہ نا کام ہو گیا۔محی الدین ابن عربی کہتے ہیں کہ قرآن کریم میں اس جگہ جس رفع کا ذکر ہے۔ہم کب کہتے ہیں نہیں ذکر۔اس کے معنے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ اسلام کی روح جو ہے جسم نہیں رَفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی روح اس سفلی دنیا کی جو یہ دنیا جو ہے نا، مادی دنیا اس عالم سفلی یہ محاورہ ہے عالم سفلی سے جدا ہو کر جسم سے علیحدہ ہو کے عالم علوی یا علوی ( یہ سارے جائز ہیں عربی میں سے متصل ہو گئی اور چوتھے آسمان پر چلی گئی جیسا کہ یعنی یہ انہوں نے نہیں لکھا یہ میں اب بیان کر رہا ہوں۔انہوں نے کہا عالم علوی جو اوپر کا عالم ہے زمین کے ساتھ جس کا تعلق نہیں آسمانوں سے ہمارے محاورے میں جس کا تعلق ہے اور معراج کا جو واقعہ ہے اس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مسیح علیہ السلام کی روح کو چوتھے آسمان پر دیکھا تھا اور وہی عالم علوی ہے۔تو یہ کہتے ہیں کہ جو وجود حضرت عیسی علیہ السلام جب آئے اور جب انہوں نے وفات پائی تو ان کی روح ان کے جسم سے علیحدہ ہوئی اور ان کی روح کا رفع ہوا اور وہ عالم علوی میں چوتھے آسمان پر جا کر ٹھہر گئی خدا تعالیٰ کے حکم کے ساتھ لیکن وہ اس میں یہ صوفی کا ایک دماغ چلا ہے بڑا تیز۔وہ یہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو فیوض حاصل کر کے مسیح ناصری نے مسیح موسوی نے حضرت عیسی نے ایک کوشش کی تھی واحدانیت پر قائم کرنے کی اور اس کا ایک نتیجہ تو ٹھیک نکلا اور وہ یہ کہ دس قبائل بنی اسرائیل کے یہاں سے یروشلم کے گردونواح سے مجبور کر۔