خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 340 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 340

خطابات ناصر جلد دوم هه لده دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۸ء رائٹر ہے مصنف ہے پڑھا لکھا ہے اس نے اس میں اس کتاب میں سواحیلی اشعار کا عربی فارسی اور اردواشعار سے موازنہ کیا ہے۔یعنی یہ شعر ہمارے شاعر نے لکھا ہے اس کے مقابلہ میں یہ اردو کا شعر ہے یہ فارسی کا شعر ہے یہ عربی کا شعر ہے اور یہ موازنہ جو کیا ہے یہ اردو فارسی عربی کے اشعار جو اپنی کتاب میں اس نے موازنہ کرتے ہوئے لئے ہیں وہ سارے کے سارے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اشعار ہیں اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے وہاں کے پڑھے لکھے طبقہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی شاعری کا تعارف کروا دیا۔سپین میں بھی کام ہورہا ہے اور مضمون وغیرہ وہ لکھتے رہتے ہیں اور رسالے لکھتے رہتے ہیں کچھ تھوڑا سا لٹریچر تیار ہو چکا ہے۔سپینش زبان میں انگریزی نہ انگریزی کہتا ہوں قرآن کریم کا ترجمہ بھی چکا ہے لیکن ابھی تک نظر ثانی ہماری مرضی کے مطابق نہیں ہوسکی اس لئے وہ شائع نہیں ہوا۔لندن میں انگلستان میں ان دنوں میں جو کتابیں چھپ چکیں یا چھپ رہی ہیں دو ایک مہینے کے اندر آ جائیں گی وہ مسیح ہندوستان میں انگریزی میں ، دعوت الامیر انگریزی کا ترجمہ مکرم شمس صاحب مرحوم کی کتاب Where did Jesus die چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب نے ایک کتاب لکھی ہے احمدیت اور اس میں ان کا مقصد یہ تھا کہ تعارف کرایا جائے احمدیت سے عام پڑھے لکھے غیر مسلم طبقہ میں جولندن کے عیسائی پڑھے لکھے یاد ہر یہ ہیں ان کو پتہ تو لگے کہ احمدیت ہے کیا، تو اس میں انہوں نے ویسے ہر مصنف اپنے مزاج کے مطابق انتخاب کرتا ہے ناسارے تو لمبی تاریخ تو نہیں چھوٹی سی تاریخ ہے تین ساڑھے تین سو صفحے کی غالبا لیکن انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی کے حالات اور جو آپ کی بعثت کا مقصد ہے اور جو مسئلے حل کئے ہیں حضرت مسیح موعو علیہ الصلوۃ والسلام نے اللہ تعالیٰ کے فضل اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے فیضانِ روحانی کو حاصل کرنے کے بعد ان کا ذکر کیا اچھا لمبا۔اصل بڑا مضمون وہ ہے پھر حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے متعلق صفحات ہیں اور پھر اس کے بعد ایک لمبا حصہ ہے کتاب کا اتنا لمبا تو نہیں جتنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی کے متعلق ہے یا آپ کے مشن کے متعلق مقاصد کے متعلق لیکن اچھا خاصا بڑ ا حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کے ساتھ چو ہدری صاحب مل کے کام بھی کرتے رہے۔بہت سارے واقعات کی تفصیل بھی ان کے دماغ میں تھی چھوٹا سا نوٹ میری خلافت پر بھی دیا ہے لیکن ابھی تک تو میں تاریخ کا حصہ نہیں بنا۔