خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 318 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 318

خطابات ناصر جلد دوم ΓΙΑ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۸ء ان کی عزت افزائی کے لئے ان نظموں کو لٹکایا جاتا تھا اور ان کے اندر نہایت فحش اور گندے شعر ہوتے تھے لیکن وہ لوگ جو نہ خدا کو پہچانتے تھے وہ لوگ جو نہ اخلاق کو پہچانتے تھے وہ لوگ جو نہ انسانی حقوق کو پہچانتے تھے وہ لوگ جو نہ اپنے ذاتی حقوق کو پہچانتے تھے یکدم ان کی کایا پلٹ گئی اور ایک انقلاب عظیم ان میں بپا ہو گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ یہ انقلاب اس لئے بپا ہوا کہ محمد رسول اللہ صلی علیہ وعلی آلہ وسلم راتوں کو اٹھ کر عاجزانہ خدا کے حضور جھکتے اور ان کی بھلائی کے لئے ان کی نیکی اور ان کے تقویٰ کے لئے ان کے اخلاق کی بلندی کے لئے ان کی روحانیت کے لئے ایسی تڑپ کے ساتھ دعائیں کرتے تھے کہ آج تک کسی انسان نے کسی دوسرے انسان کے لئے اس قدر تڑپ کے ساتھ کبھی دعا نہیں کی۔یہ جو چار قسم کی قوتیں اور صلاحیتیں ہیں جن کے سامان اسلام نے پیدا کئے ان میں سے پہلی کا تعلق جسمانی طاقتوں کے ساتھ ہے۔اس کے لئے ایک تفصیلی تعلیم اسلام نے دی ہے اس تفصیل میں تو اس وقت میں اس لئے نہیں جاؤں گا کہ وہ میرا مضمون نہیں۔آج تو میں ، جو سال گذرا ہے اللہ تعالیٰ کے جو فضل جماعت پر نازل ہوئے ہیں ان کی میں بات کروں گا۔پہلی چیز ہے جسمانی ضرورتوں کو پورا کرنا جسمانی حقوق کی ادائیگی جن کے بغیر جسمانی طاقتوں کی نشو و نما نہیں ہو سکتی۔اس کے لئے ضروری ہے کہ جسمانی طاقت بچپن سے لے کر بڑی عمر تک صحیح نشو ونما کے لئے اس طاقت کو جس غذا کی ضرورت ہے وہ ملے اور جب وہ اپنے عروج کو پہنچ جائے اور جوان ہو جائے اور پوری جوانی کی طاقت میں ہو انسان اس وقت اس کو اس معیار کے اوپر قائم رکھنے کے لئے جس غذا کی ضرورت ہے وہ اسے ملے۔اس میں کم سے کم یہ ہے کہ بھوک جو ہے یعنی جو جسم چاہتا ہے کہ مجھے کھانے کو دو یہ احساس اتناہی بس رہ جائے جتنا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ابھی بھوک ہو تو کھانا چھوڑ دو۔اس سے زیادہ احساس جو ہے وہ انسان کی جسمانی طاقتوں کو کمزور کرنے والا ہے۔اس کے لئے دنیا تو اس طرف توجہ نہیں کرتی اور ہمارے پاس اس کے پیسے نہیں ہیں اتنے ، جماعت احمدیہ کے پاس۔لیکن چونکہ ہمارے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ ہم ساری دنیا کی ضرورتوں کو پورا کر سکیں اس سے یہ نتیجہ نکا لنا غلط ہے اور بداخلاقی ہوگا اور مہلک ہوگا کہ اگر ہم کہیں کہ جتنا ہم کر سکتے ہیں اتنا بھی نہ کریں تو اسلام نے جو یہ تعلیم دی ہے اسی کو سامنے