خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 317 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 317

خطابات ناصر جلد دوم ۳۱۷ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۸ء حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پہلی دفعہ اس حقیقت کو آشکارہ کیا کہ مسیح علیہ السلام صلیب پر نہیں مرے تھے دوسرے روز کا خطاب جلسہ سالانہ فرموده ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۸ء بمقام ربوه تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔قرآن کریم نے ہمیں یہ سکھایا ہے کہ جتنی طاقتیں اور صلاحیتیں اور استعداد میں انسان میں پائی جاتی ہیں وہ سب اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ہیں اور ان ساری قوتوں صلاحیتوں اور استعدادوں کی صحیح اور کامل نشو ونما کے لئے جو چیز چاہئے وہ اللہ تعالیٰ نے پیدا کر دی ہے کا ئنات کی ہر چیز کو اس لئے پیدا کیا گیا ہے کہ انسان کامیاب ہو اس بات میں کہ اللہ تعالیٰ نے جو اسے صلاحیتیں دی ہیں ان کی صحیح اور کامل نشو و نما ہو صحیح اور کامل نشو و نما کے لئے ، کچھ مادی ذرائع کی ضرورت ہے اور کچھ علمی ذرائع کی ضرورت ہے اور کچھ اخلاقی ذرائع کی ضرورت ہے اور کچھ روحانی ذرائع کی ضرورت ہے۔روحانی ذرائع جو ہیں ان کی بنیاد تو عاجزانہ دعاؤں پر ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ایک حسین اسوہ اس کے لئے ہمارے سامنے رکھا اور قائم کیا وہ وہ کیفیت ہے جسے قرآن کریم نے لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ (الشعراء :۴) اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لکھا ہے کہ انسان غور کرے تو عرب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد ایک انقلاب عظیم بپا ہوا۔عرب جس میں آپ مبعوث ہوئے تھے جو پہلے مخاطب تھے آپ کے مخاطب تو آپ ساری دنیا کے تھے یعنی ساری دنیا کو آپ نے خطاب کیا اور ان کو دعوت دی خدائے واحد و یگانہ اور اپنی رسالت اور قرآنی ہدایت کی طرف لیکن پہلے مخاطب عرب تھے اور عرب کی حالت اس وقت یہ تھی که دنیا دارانہ زندگی میں اس قدر دھنسے ہوئے تھے کہ انسان ان کی تاریخ پڑھ کے کانپ اٹھتا ہے لڑکیوں کو زندہ دفن کر دینا اور اپنی گندی حرکتوں پر بڑے فخر سے نظمیں لکھنا۔اور سارے عرب کا دماغ اتنا خراب تھا کہ ایسی نظموں کو اتنی مقبولیت حاصل ہوتی تھی کہ خانہ کعبہ کے پردوں کے ساتھ