خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 301 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 301

خطابات ناصر جلد دوم ۳۰۱ اختتامی خطاب ۲۸؍ دسمبر ۱۹۷۷ء اور تیسری طیب کی شرط یہ ہے کہ اس کی مقدار کا جائزہ اندازہ ہو۔یعنی وہ اسراف نہ ہو۔نہ کمی کی طرف نہ زیادتی کی طرف۔تو حلال کھاؤ جائز جگہ سے لے کے کھاؤ اور جائز طریق سے حاصل کردہ کھاؤ اور اندازہ کے مطابق کھاؤ جتنی کسی کو ضرورت ہے مثلاً میں نے پہلے بھی شاید یہاں جلسے میں کسی وقت بتایا تھا کہ ایک امریکن ڈاکٹر نے ریسرچ Research کی۔بچوں کے کھانے پر تو اس نے یہ خاص خاص ڈاکٹر ا کٹھے ہو گئے تھے ان کو ریسرچ کے پیسے بڑے مل جاتے ہیں اور کوئی دس بارہ سال ریسرچ کرتے ہوئے چھوٹی عمر کے بچوں کے کھانے۔تو اس نے یہ نتیجہ نکالا ہے مختصر ایک وہ یہ تھا کہ اٹھارہ سال تک کی عمر تک انسان کھانے کے لحاظ سے بچارہتا ہے اور اٹھارہ سال کی عمر تک کھانے کا جو صحیح طریق طیب جو ہے وہ یہ ہے کہ جس چیز کی جس وقت جتنی مقدار میں بچے کو خواہش پیدا ہو اس کو ملنی چاہئے۔اگر اس کی صحت قائم رکھنی ہے۔اندر سے آواز ہے ہر آدمی کوئی کہتا ہے مونگ پھلی کھلاؤ، کوئی کہتا ہے میں نے مونگ پھلی کھانی نہیں، کوئی کہتا ہے مجھے چنے کھلاؤ۔ماں باپ کہتے ہیں تیرا پیٹ خراب ہو جائے گا چنے تجھے دینے نہیں۔تو اس میں بالکل عین قرآن کے اس تعلیم کے مطابق اس کی ریسرچ کا نتیجہ نکلا کہ جو بچے جس چیز کی جتنی مقدار میں جس وقت بچے کے دل میں خواہش پیدا ہو وہ اس عمر کی طبیب ہے وہ اس کوملنی چاہئے اگر اس کی صحبت آپ نے پوری طرح قائم رکھنی ہے۔پھر اموال ہیں ہمیں خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے مال دیئے ہیں ہم تو اپنے ماؤں کے پیٹوں میں سے تو نہیں لے کے آئے دولت یہ دنیا کی۔اس کے متعلق ہمیں یہ حکم دیا وفي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ (الذریت : ۲۰) ان کے اموال میں ہم حق قائم کرتے ہیں اور یہ حق ہم قائم کرتے ہیں لِلسَّابِلِ وَالْمَحْرُومِ (الثریت :۲۰) ان کے اموال میں سائل کا بھی حق ہے اور محروم کا بھی حق ہے۔اس کے مختلف معنے کئے جاتے ہیں دیر ہوگئی ہے اس وقت میں اس تفصیل میں نہیں جانا چاہتا لیکن سائل اور محروم دو کا حق جو ہے، حق کہہ کے وہ قائم کیا گیا ہے یہ نہیں کہا گیا کہ اگر سائل مسلمان ہے تو ان کے اموال میں اس کا حق ہے یا اگر محروم مسلمان ہے تو ان کے اموال میں اس کا حق ہے بلکہ یہ کہا گیا ہے کہ سائل جو ہے خواہ وہ مسلم ہے یا غیر مسلم، خواہ وہ نیک ہے یا بد خواہ وہ مخلص ہے یا کمزور ہے کوئی فرق نہیں پڑتا اعتقاد کا یا امر کا جہاں تک اس کی مالی ضروریات کا تعلق ہے امراء کے اموال میں، سائل کا بلا تمیز اور تفرقہ عقیدہ حق قائم کیا جاتا ہے۔اسی طرح محروم کہا گیا ہے مسلمان محروم نہیں کہا گیا۔