خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 279
خطابات ناصر جلد دوم ۲۷۹ اختتامی خطاب ۲۸ / دسمبر ۱۹۷۷ء تک پہنچتا ہے۔پھر اس درخت کے اوپر کچھ عرصے کے بعد کئی سال وہ جوانی کے اس عروج پر رہتا ہے پھر دور ایک دوسرا شروع ہوتا ہے اس میں کمی آتی ہے، پھر اس کی عمر ختم ہو جاتی ہے۔خدا تعالیٰ کی تقدیر جو ہے وہ چل رہی ہے اور اس فیض سے جس کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فیضان عام کہا ہے یعنی سب سے زیادہ فائدہ ہوا۔یہ آسمانوں کے ساتھ تعلق رکھتا ہے یا زمین کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔یہ فیضان جو ہے وہ جمادات کے ساتھ تعلق رکھتا ہے یہ فیضان نباتات کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔یہ فیصان جو ہے وہ بیکٹیریا جو نہ نظر آنے والے چھوٹے چھوٹے کیڑے ہیں اچھے اور برے ان کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں۔بُرے اس لحاظ سے کہ بعض دفعہ انسان اپنی غفلت کی وجہ سے ان سے نقصان اٹھا لیتا ہے ورنہ ہر چیز فائدے کے لیے بنائی گئی ہے۔اور یہ فیصان جو ہے وہ چرندوں سے تعلق رکھتا ہے اور پرندوں سے تعلق رکھتا ہے۔اور انسانوں سے تعلق رکھتا ہے اور مومن اور کافر سے تعلق رکھتا ہے اور یہ کوئی فرق نہیں کرتا یہ فیضان۔بڑے بڑے جو اولیاء ہیں ان کے ساتھ بھی اور جو خدا تعالیٰ کی راہ میں بڑے بڑے روڑے اٹکانے والے پیدا ہوتے رہے ہیں ان کے اوپر بھی یہ فیضان جو ہے، جاری اور ساری ہے۔ساری مخلوق پر اللہ تعالیٰ کا فیضان ربوبیت جاری اور ساری ہے اور ایک متسند و بالا راده قادر المطلق ہستی نے یہ کائنات ہستی پیدا کر کے اپنا یہ فیضان اپنا یہ انعام اپنی مخلوق کو دیا اور کائنات میں کوئی ایسی چیز نہیں جس کو یہ نہ ملا ہو۔یعنی ایک طرف انسان ہے اس کو بھی خدا تعالیٰ کی ربوبیت سے فائدہ پہنچ رہا ہے۔سور ہے اسے بھی پہنچ رہا ہے، کتے کو بھی پہنچ رہا ہے ، گھوڑے کو بھی پہنچ رہا ہے، درخت کو بھی پہنچ رہا ہے، یہ جو ہماری اجناس ہیں ان کو بھی پہنچ رہا ہے، یہ جو جمادات ہیں ان کو بھی پہنچ رہا ہے، پتھروں کو بھی پہنچ رہا ہے، ہیروں کو بھی پہنچ رہا ہے۔ہر چیز کو خدا تعالیٰ کی ربوبیت سنبھالے ہوئے ہے۔اور ہر چیز کو خدا تعالیٰ کی ربوبیت ترقی دے کر اس کے کمال تک بلکہ یہ کہنا چاہئے کہ اس کے نوعی اور انفرادی کمال تک پہنچاتی ہے۔نوعی کمال تک کا مطلب یہ ہے کہ مثلاً آم میں، مختلف قسم کے آم ہیں، ایک پھل ہے جس کو ہم آم کہتے ہیں۔اور تھی ہم تو جتنے تم سے نکلے اتنی قسمیں بن جاتی ہیں جو پیوندی آم ہیں ان کی قسمیں بھی سینکڑوں تک ہیں۔تو جو خدا تعالیٰ کی ربوبیت آم کے درخت کے ساتھ ہے وہ اس کی نوع کو اپنے کمال تک پہنچاتی ہے اور جو فردا فرد درختوں کے ساتھ ہے وہ انفرادی طور پر پہنچاتی