خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 278 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 278

خطابات ناصر جلد دوم ۲۷۸ اختتامی خطاب ۲۸؍ دسمبر ۱۹۷۷ء اور صلاحیتیں اور طاقتیں اور استعداد میں اللہ تعالیٰ نے اسے دی ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی بتائی ہوئی ہدایت کے مطابق ان کی نشو و نما کر کے خدا تعالیٰ کے قرب کی راہوں کو تلاش کرے اور ایک زندہ تعلق اس کے ساتھ قائم کرے۔یہ جو دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کے عبد بننے کی قوتیں اس کی راہ میں خرچ ہوں یا اپنی صفات پر خدا تعالیٰ کی صفات کا رنگ چڑھایا جائے اور انسان خدا کے لئے ہو جائے اس سلسلے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن کریم نے ہمیں کیا بتایا ہے کہ وہ کونسی صفات ہیں جو انسان کے اندر پیدا کی گئی ہیں۔اور ان کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اللہ تعالیٰ کے چار فیوض کا نام دیا ہے اور ان کا تعلق سورۃ فاتحہ کی چار صفات باری سے ہے۔جنہیں ہم امہات صفات کہتے ہیں۔یعنی رب اور رحمان اور رحیم اور مالک یوم الدین۔یہ جو رب کی صفت ہے یہ ایک سب سے عام فیض ہے اللہ تعالیٰ کا اس کا ئنات پر اور اس کا جلوہ ہر مخلوق پہ ہے۔قرآن کریم نے کہا ہے کہ ربُّ كُلِّ شَيْ (الانعام : ۱۶۵) ہر چیز کا رب وہ ہے، ربّ العالمین سورۃ فاتحہ میں کہا گیا ہے کا ئنات کا رب وہ ہے کا ئنات میں ہر چیز جو پائی جاتی ہے، خدا تعالیٰ کی ربوبیت اس کے شامل حال ہے یعنی اگر ربوبیت باری نہ ہوتی تو معرض وجود میں وہ شے نہ آتی۔اور اگر ر بو بیت ایک لحظہ کے لئے بھی اس سے علیحدہ ہو جائے تو ختم ہو جائے وہ چیز ، اور ربوبیت کے معنی ہیں پیدا کرنا اور تدریجی ترقیات دیتے ہوئے اس چیز کو اس کے کمال تک پہنچا دینا۔رب کے یہ معنی ہیں۔وہ پیدا بھی کرتا ہے اور صفات کو تدریجی ارتقائی ادوار میں سے گزار کے اس نشے کو کمال تک پہنچا دیتا ہے۔اس کو سمجھنے کے لئے عام بچے بھی سمجھ جائیں گے کہ ایک گٹھلی آم کی ہے اس کو جب ہم زمین پر لگاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے وہ پھوٹتی ہے گٹھلی ، اور ایک پودا بنتا ہے۔پھر وہ تو آہستہ آہستہ شاخیں نکالتا ہے اس کی شاخیں بنتی ہیں پتے بنتے ہیں پھر اس کی غذائیت جو ہے اس کی ضرورت کے مطابق کچھ زمین سے اسے ملتی ہے کچھ آسمان سے اسے ملتی ہے سورج کی شعائیں ہیں اور ہوا ہے اس میں سے وہ اپنی غذائیت لیتی ہے۔پھر وہ آہستہ آہستہ آہستہ بڑا ہوتا ہے اور تخمی آم جو ہے وہ عام طور پر چھ سات سال کے بعد اپنی بلوغت کو پہنچتا پھر اسے پھل لگنے شروع ہو جاتے ہیں۔اور پھر وہ پھلوں کی مقدار میں اس میں زیادتی ہوتی ہے۔اور پھل بننے شروع ہوتے ہیں۔یہاں تک کہ اس درخت کو جو سب سے زیادہ پھل دینے کی ، پھل پیدا کرنے کی قابلیت تھی وہ وہاں