خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 277
خطابات ناصر جلد دوم ۲۷۷ اختتامی خطاب ۲۸ ؍ دسمبر ۱۹۷۷ء شکل دکھلائی جائے یعنی شخص مدعی اسلام یہ بات ثابت کر دیوے کہ اس کے ہاتھ اور پیر اور دل اور دماغ اور اس کی عقل اور اس کا فہم اس کا غضب اور اس کا رحم اور اس کا علم اور اس کی تمام روحانی اور جسمانی قوتیں اور اس کی عزت اور اس کا مال اور اس کا آرام اور اس کا سرور اور جو کچھ اس کا سر کے بالوں سے پیروں کے ناخنوں تک با اعتبار ظاہر و باطن کے ہے یہاں تک کہ اس کی حیات اور اس کے دل کے خطرات ( جو خیالات آتے ہیں) اور اس کے نفس کے جذبات سب خدا تعالیٰ کے ایسے تابع ہو گئے ہیں۔کہ جیسے ایک شخص کے اعضاء اس شخص کے تابع ہوتے ہیں۔غرض یہ ثابت ہو جائے کہ صدق قدم اس درجہ تک پہنچ گیا ہے کہ جو کچھ اس کا ہے وہ اس کا نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کا ہو گیا ہے اور تمام اعضاء اور قوی الہی خدمت میں ایسے لگ گئے ہیں کہ گویا وہ جوارح الحق ہیں۔پس اسلام کی حقیقت نہایت ہی اعلیٰ ہے۔اور کوئی انسان کبھی اس شریف لقب اہل اسلام سے حقیقی طور پر ملقب نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنا سارا وجود مع اس کی تمام قوتوں اور خواہشوں اور ارادوں کے حوالہ بخدا نہ کر دیوے اور اپنی انانیت سے مع اس کے جمیع لوازم کے ہاتھ اُٹھا کر اس کی راہ میں نہ لگ جاوے۔پھر آپ فرماتے ہیں واضح ہو کہ اللہ تعالیٰ کا کلامِ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ (الفاتحة : ۵) اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ تمام کی تمام سعادت خدائے رب العالمین کی صفات کی پیروی کرنے میں ہے۔اور عبادت کی حقیقت محبوب کے رنگ میں رنگین ہونا ہے اور راستبازوں کے نزدیک کمال سعادت یہی ہے چنانچہ خدا شناس لوگوں کے نزدیک بندہ در حقیقت اسی وقت عبد کہلا سکتا ہے جب اس کی صفات خدائے رحمان کی صفات کا پر تو بن جائیں۔پس عبودیت کی نشانیوں میں سے ایک نشان یہ ہے کہ انسان میں بھی حضرت رب العزت کے رنگ کی ربوبیت پیدا ہو جائے۔اور اسی طرح بطور ظلیت اس میں رحمانیت ، رحیمیت اور مالکیت یوم الدین کی صفات، صفات حضرت احدیت پیدا ہو جائیں۔یہی وہ صراط مستقیم ہے جس کے متعلق ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم اسے طلب کریں اور یہی وہ راستہ ہے جس کے متعلق ہمیں تاکید کی گئی ہے کہ کھلے کھلے فضل والے خدا سے اس کے ملنے کی امید رکھیں۔مختصر ااس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے اس لئے پیدا کیا کہ جو قوتیں