خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 256 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 256

خطابات ناصر جلد دوم دوسرے روز کا خطاب ۲۷ ؍ دسمبر ۱۹۷۷ء سی تکلیف ہوتی ہے۔یعنی مالی لحاظ سے کہ بعض جگہ وہ مسجد بنانے کی اجازت دینے کے لئے تیار ہوتے ہیں ذہنی طور پر لیکن وہ کہتے ہیں کہ ایک عالی شان مسجد نمازی ہو نہ ہو وہ مسجد بنا دو تا کہ یاد رہے، وہ کہتے ہیں ہمارے شہر کی خوبصورتی بڑھ جائے گی بہت بڑی مسجد جس طرح لاہور کی جامع مسجد ہے ہماری، کہ ایسی ہی بنا دو تو زمین لے لو۔تو ہمیں چاہئے وہ مسجد جس کی چھت پر کھجوروں کے پتے پڑے ہوئے ہوں پانی بھی پڑکا کرے۔وہیں سے تو ہماری مسجد میں شروع ہوئی تھیں ناں۔تو ہم وہیں سے آج شروع کرنا چاہتے ہیں ان علاقوں میں۔ان کے ذہن کچھ اور قسم کے ہیں اس واسطے وہ روک پیدا ہو جاتی ہے۔بہر حال یہ روکیں جو ہیں یہ تو اٹھیں گی ایک دن انشاء اللہ تعالیٰ۔یہ ہمیشہ کے لئے قائم نہیں رہتیں۔یہ آپ یا درکھیں۔قربانیاں آپ کو دینی پڑیں گی لیکن کوئی روک دنیا کی ایسی نہیں ہے جو آپ کو ہمیشہ کے لئے کھڑا کر دے ایک جگہ پہ وہ تو ہٹے گی اور آپ آگے بڑھیں گے۔نئے مشنز کے علاوہ نئی جماعتوں کا قیام انگلستان میں دو مقامات پر دونئے شہروں میں ، اور منجی آئی لینڈ میں تین ، نجی آئی لینڈ میں جو بہت خوشی کی بات ہے اس سال ہوئی ہے وہ یہ کہ مبلغ بدلے پہلے بھی ہم ان کو کہتے تھے کہ اس طرف توجہ کرو کہ جو اصل باشندے ہیں نجیئن ان کی زبان سیکھو ان کو تبلیغ کر واصل تو نجی کے جزائر جو ہیں وہ نجی کے رہنے والوں کے ہیں نا۔باقی تو باہر سے گئے ہیں آباد ہو گئے جس دن ان کو غصہ آ گیا وہ باہر بھی نکال سکتے ہیں۔انہیں احمدی کرو تو وہ اس سال خدا سے فضل سے متعدد جین احمدی ہو چکے ہیں۔عیسائیت یا بت پرستی سے۔زیادہ تر عیسائی بنے ہوئے ہیں وہاں۔تو یہ ایک نئی چیز اوپر آ گئی ناں۔ایک نیا میدان۔ایک نیا فرنٹیئر ہمارے لئے کھل گیا ترقی کا انشاء اللہ۔اور اللہ تعالیٰ اس میں برکت ڈالے گا اور ایسے لوگ اگر وہ توجہ کریں تو جلد ہی اسلام کو قبول کر کے ( کیونکہ بڑاحسن ہے بڑا احسان ہے اسلام میں ) اور یہ رزسٹ (Resist) نہیں کر سکتے اس کا مقابلہ نہیں کر سکتے جس طرح اس جلسہ میں پاکستان کے ایک علاقہ سے دوسو ( پاکستان کا علاقہ ہے اس واسطے وہ اکتیس ملکوں میں شامل نہیں ہوگا ) دو سوا چھوت نو مسلم احمدی بھی بیٹھے ہیں آپ کے اندر۔باوجود اس کے کہ وہاں کے امراء اس علاقہ کے جو ان کو غلام سمجھ کے ان سے کام لیتے تھے وہی روکیں ڈال رہے ہیں کہ غلامی سے آزادی مل رہی ہے ہمارے کام کے نہیں رہیں گے لیکن وہاں ایک رو پیدا ہوگئی ہے۔دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ان مظلوموں کو جلد نجات دلائے اس ظلم سے۔