خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 253 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 253

خطابات ناصر جلد دوم ۲۵۳ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ ؍ دسمبر ۱۹۷۷ء " ہے یعنی مسلمان کو کہا ہے کہ یہ مسجد تیری نہیں میری ہے ، انتہا کر دی نا ، خدا نے پیار سے میں تو سمجھتا ہوں کہ میرے ساتھ پیار کی انتہا کر دی کہ جب میں نے مسجد بنائی تو خدا نے کہا کہ یہ مسجد تیری نہیں میری ہے اور چونکہ میری ہے اس لئے ہر موحد کے لئے اس کے دروازے کھلے رہیں گے۔مسلمان ہو یا نہ ہو موحد ہونا چاہئے میں نے ان کو یہ بتایا اس وقت تک وہ کہتے ہیں کہ دس ہزار سے زیادہ غیر مسلم اگر نماز کے وقت مسجد دیکھنے آ جائے بڑی خوبصورت جگہ ہے، سیاح آتے ہیں وہاں ، تو وہ نماز میں شامل ہو جاتے ہیں۔اس دن جس دن میں نے افتتاح کیا اور یہ اعلان کیا تو تین سو کے قریب غیر مسلم جمعہ کی نماز میں شامل ہو گئے اب بے چاروں کو یہ تو پتہ نہیں تھا کہ رکوع کس طرح کرتے ہیں اور سجدہ کس طرح کرتے ہیں اور قعدہ کس طرح کرتے ہیں وہ ادھر ادھر دیکھ لیتے تھے اور جس طرح مسلمان کرتے تھے۔وہ بھی کر لیتے تھے۔ہمیں بڑا لطف آیا اور یہ قرآن کریم کی تاثیر ہے یہ میرا یا آپ کا کام نہیں ہے کہ اتنی تبدیلی دومنٹ میں پیدا کر دیں۔یہ اعلان بڑا عظیم - قرآن کریم کا۔ان کو میں نے یہ آیت بتا کے تھوڑی سی مختصراً تفصیل بتائی اور نجران کا وفد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے آیا اور انہوں نے اجازت مانگی کہ ہمیں اجازت دیں ہم باہر جا کے کہیں اپنی عبادت کر لیں آپ نے کہا کہ باہر کیوں جاتے ہو مسجدى هذا (السيرة النبوية لابن هشام الجز الثانی صفحه ۲۲۴)۔یہ میری مسجد - مسجد نبوی جو ہے اس میں اپنی عبادت کر لو۔اور انہوں نے وہاں عبادت کی تو مسجد نبوی سے زیادہ مکرم اور مستند تو دنیا کی اور کوئی مسجد نہیں جس کے دروازے موحد غیر مسلم کے اوپر بند کر دیئے جائیں۔تحریک جدید جب شروع ہوئی تو ایک یہ انقلاب، ایک جگہ وسعت ہوئی نمبر کے، تعداد کے لحاظ سے، دوسرے ملکوں میں ایسے دل خدا تعالیٰ نے تلاش کر کر کے دیئے احمدیت کو ، جو فدائی اسلام کے اور ہر جگہ فون کے اوپر کسی نے اسلام کی بات کی ہے ( یہ واقعات ہوئے ہیں وہاں ، وہاں تین منٹ کے بعد ایکسچینج جو ہے وہ فون بند نہیں کر دیتا، نہ یاد کراتا ہے کوئی آدھا گھنٹہ بات کرنا چاہتا ہے کرتا رہے ) تو ایسے واقعات ہوئے ہیں کہ جتنی مہینے کی آمد تھی اس سے زیادہ فون کا بل آ گیا کیونکہ انہوں نے اسلام کی بات شروع کر دی تھی اور انہوں نے اسلام کی تبلیغ شروع کر دی تھی اور یہ بھول ہی گئے کہ پیسے بھی دینے پڑیں گے۔بڑا انقلاب ہے معمولی بات نہیں ہے یہ۔تو تعداد کے لحاظ سے اور اخلاص کے لحاظ