خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 13
خطابات ناصر جلد دوم ۱۳ افتتاحی خطاب ۲۶؍ دسمبر ۱۹۷۴ء اور یہ بھی ضروری ہے کہ دوسروں کا وقت نہ لوں۔میں نے بتایا تھا کہ ۲۶ نومبر سے میں بیمار چلا آ رہا ہوں۔مجھ پر دو دفعہ بیماری کے بڑے سخت حملے ہوئے ہیں۔انفیکشن (infection) دوسرے حملہ میں پہلے سے بھی زیادہ تھی۔پہلے حملے میں گیارہ ہزار وائٹ سیلز (white cells) تھے اور دوسرے میں اٹھارہ ہزار تک پہنچ گئے تھے۔تیسری دفعہ جو حملہ ہوا اس نے ایک نئی شکل بنائی تھی، لیکن اللہ تعالیٰ نے فضل کیا اور مرض شروع میں ہی دب گیا۔آج ۲۶ دسمبر ہے گویا بیمار ہوئے پورا مہینہ ہو گیا ہے۔کل رات میں نے ڈاکٹروں کی ہدایت کے مطابق اینٹی بائیوٹک دوائی کی آخری خوراک لی تھی پس ایک مہینے سے میں بیمار ہوں۔لیٹے ہوئے وقت گزارتا ہوں۔جسمانی طور پر کمزوری محسوس کرتا ہوں لیکن میرا جسم اس کمزوری کے باوجود میرے دل اور میرے دماغ کی آواز پر لبیک کہنے کے لیے اُٹھ کھڑا ہوا ہے۔علاوہ ازیں دنیوی لحاظ سے وہ تلخیاں جو دوستوں نے انفرادی طور پر محسوس کیں وہ ساری تلخیاں میرے سینے میں جمع ہوتی تھیں اُن دنوں مجھ پر ایسی راتیں بھی آئیں کہ میں خدا کے فضل اور رحم سے ساری ساری رات ایک منٹ سوئے بغیر دوستوں کے لئے دعائیں کرتا رہا ہوں۔میں احباب سے یہ درخواست کرتا ہوں کہ وہ میرے لیے بھی دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے صحت د اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے مجھے ان ذمہ داریوں کو بطریق احسن ادا کرنے کی توفیق عطا کرے جو اُس نے اس عاجز کے کندھوں پر ڈالی ہیں۔میں اور احباب جماعت مل کر ان ذمہ واریوں کو پورا کریں کیونکہ میرے اور احباب کے وجود میں میرے نزدیک کوئی امتیاز اور فرق نہیں ہے۔ہم دونوں امام جماعت اور جماعت ایک ہی وجود کے دو نام ہیں اور ایک ہی چیز کے دو مختلف زاویے ہیں۔پس ہمیں اپنی زندگیوں میں اُن بشارتوں کے پورا ہونے کی جھلکیاں نظر آنے لگیں جو بشارتیں کہ مہدی معہود علیہ السلام کے ذریعہ حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کے غلبہ کی ہمیں ملی ہیں۔آمین۔آداب دُعا کر لیں۔(روز نامه الفضل ربوہ ۱۷ را پریل ۱۹۷۶ء صفحہ۲ تا ۷ )