خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 213
خطابات ناصر جلد دوم ۲۱۳ اختتامی خطاب ۱۲؍ دسمبر ۱۹۷۶ء کچھ لکھنا چاہے تو وہ عقلی اربعے لگا کر ہی کچھ لکھے گا اور اس طرح ہندووں کی تاریخ تو بن سکتی ہے مگر اصل تاریخ تو نہیں بن سکتی یعنی واقعاتی طور پر یوں ہو گیا یہ تو عقل نہیں کہہ سکتی عقل اگر یہ عقل کہتی ہے کہ آج سے دو ہزار سال پہلے میں نے یوں اربعے لگائے اور یوں واقعات رونما ہوئے مگر جب تک تاریخ کا رفیق اس کے ساتھ نہ ہو تاریخ کے متعلق عقل کا فیصلہ نا قابل قبول ہوتا ہے۔یہی احباب کو ایک لطیفہ سنا دیتا ہوں جب میں نے میٹرک کا امتحان دیا تو ہمارے تاریخ کے پرچے کا ایک حصہ ہند و تاریخ تھی۔میں نے ایک دن ہندو تاریخ کی کتاب اٹھائی تو مجھے یہ سمجھ آئی کہ جس نے یہ کتاب لکھی ہے اسی نے تاریخ بنادی ہے کیونکہ تاریخی ثبوت کوئی نہیں دیا۔پانچ ہزار سال پہلے کی باتیں ہیں لیکن کہیں ریکارڈ نہیں ہے۔گئیں مار کر اپنی تعریفیں کر کے کہ یوں ہو گیا اور یوں ہو گیا تاریخ بنادی گئی چنانچہ طبیعت میں بڑی نفرت کی پیدا ہوئی اور میرے دماغ نے یہ فیصلہ کیا کہ اگر یہ ہندو کتاب لکھنے والا ہمارے اور کسی کی تاریخ بنا سکتا ہے تو میرا دماغ بھی بنا سکتا ہے اس لئے میں خواہ مخواہ اپنا وقت کیوں ضائع کروں میں امتحان کے ہال میں ہندووں کی تاریخ بناؤں گا۔میرے ساتھی کہتے اپنے نمبر کیوں خراب کر رہے ہو کچھ پڑھا کرو میں نے کہا نہیں پڑھوں گا اس نے تاریخ بنائی ہے میں بھی بناوں گا چنانچہ یہ امر واقعہ ہے کہ امتحان کے ہال میں سوالوں کے ایک حصہ کی ہندووں کی تاریخ بنائی اور ہندو متحن نے مجھے بہت اچھے نمبر دیئے لیکن اصل تاریخ تو اس طرح نہیں بنتی یا مثلاً امریکہ ہے ایک آدمی یہاں بیٹھ کر والڈ روف ہوٹل جس میں ہم ٹھہرے تھے اس کے متعلق ایک مقالہ لکھ دے جسے نہ تو اس نے دیکھا ہو اور نہ اس کے متعلق کچھ سنا ہو تو اس کی بات تو غلط ہوگی۔پس اگر انسان کسی واقعہ سے زمانی یا مکانی لحاظ سے فاصلے پر ہے تو اس کے متعلق اس کی بات ماننے کے لئے یا تو متعبر تاریخی کتب کی شہادت چاہئے یا پھر سماع چاہئے کہ ایک آدمی آیا ہے وہ کہتا ہے کہ وہاں یہ واقعہ ہوا ہے مثلاً میں نے امریکہ کے والڈروف ہوٹل کی ۱۰۷ ویں منزل پر ایک دن ایک احمدی دوست کی دعوت پر وہاں کھانا کھایا بیٹھ کر تو کوئی آدمی یہ بات نہیں بنا سکتا کہ اتنویں منزل پر بیٹھ کر کھانا کھایا جا سکتا ہے یہ تو وہی بتائے گا جس کو پتہ ہے یا مستند کتابوں سے اس نے استفادہ کیا ہو یا مثلاً کسی ملک میں زلزلہ آ گیا ہو تو وہاں کی خبر وہ صحیح نہیں ہوتی جو اخبارات رطب و یا بس شائع کر دیتے ہیں۔میں اپنے اخباروں پر تنقید نہیں کر رہا ساری دنیا کے اخبار ہی اسی