خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 182
خطابات ناصر جلد دوم ۱۸۲ دوسرے روز کا خطاب اار دسمبر ۱۹۷۶ء پیراماؤنٹ چیف نے جا کر شور مچا دیا۔انہوں نے حکومت سے کہا کہ یہ کیا مطلب؟ چھ سو بچوں کی اگر تم ان کے اوپر قید لگاؤ گے تو ہمارے بچے تو ہماری جان کھا جائیں گے۔اس واسطے تم اپنے قائدے میں یہ استثناء کرو کہ یہ قانون باقی سارے سکولوں پر جاری ہو گا احمد یہ سکول پر نہیں جاری ہوگا۔وہاں کے پرنسپل نے ایک سال مجھے لکھا کہ داخلے کا زمانہ میرے لئے بڑا پریشان کن ہوتا ہے کیونکہ وزراء اپنے اور اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کے بچوں کو لے کر میرے پاس آ جاتے ہیں داخل کروانے کے لئے اور بعض دفعہ جگہ نہیں ہوتی پھر بڑی مشکل پڑتی ہے۔اب وہ لوگ کہتے ہیں کہ پیسے ہم دیتے ہیں تم نئے ونگز (wings) بناؤ نئے کمرے بناؤ نیا سٹاف رکھو نیا سائنس کا سامان منگواؤ۔لیکن وہی وقت ہے پہلے شاید چارسو کی پابندی تھی پھر چھ سو ہوئی اب طلباء کی تعداد ہزار سے اوپر چلی گئی ہے لیکن اب بھی اس کی ضرورت ویسی ہی ہے اور یہ اس کی مقبولیت ہے اور یہ خدا تعالیٰ کا منشا ہے ، ہم لوگ خدمت کر رہے ہیں لیکن میں اور آپ ہیں کیا چیز ؟ محض لاشئی محض ہیں۔یہ خدا کا منصوبہ ہے اور خدا کے منصوبے کو دنیا کی کوئی طاقت نا کام نہیں کر سکتی۔نا کام کرنے کا دعوی کرنا خدائی کا دعوی کرنا ہے، اسی سال سے آہستہ آہستہ آہستہ آہستہ یہ تبدیلی ہو کر اب ہم یہاں آج کی حالت کو پہنچے ہیں۔میری خلافت کے زمانہ میں پہلے فضل عمر فاؤنڈیشن کا منصوبہ آیا، اس پر ابھی تین سال نہیں گذرے تھے اور اگر عام دنیا دار کی زبان استعمال کی جائے تو کہیں گے کہ ابھی تو احمدی ستایا بھی نہیں تھا کہ آپ نے نصرت جہاں آگے بڑھو کی سکیم ان کے سامنے رکھ دی ( ابھی میں مختصراً اس کے حالات بتاؤں گا ) ابھی نصرت جہاں کی سکیم پر تین سال نہیں گذرے تھے کہ صد سالہ جوبلی فنڈ کا بہت بڑا منصوبہ سامنے آ گیا اور یہ جو آخری منصوبہ ہے اسی کو لے کر اب میں اس کی تفصیل میں جاؤں گا۔مجھے بہت سے غیر احمدی معززین نے جو ہمارے دوست ہیں یہ کہا ہے کہ آپ پیسے کی بات نہ کیا کریں ہمیں آپ پر بڑا غصہ آتا ہے۔میرے لئے بڑی مشکل ہے۔پیسے کی بات میں اس لئے تو نہیں کرتا کہ مجھے یا آپ کو پیسے کی لالچ ہے بلکہ اس لئے کرتا ہوں کہ ہم اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور اس کے فضلوں کے نشان دیکھ رہے ہیں۔تو اگر ہم بات نہ کریں تو اللہ تعالیٰ ناراض ہو جائے گا کہ تحدیث نعمت نہیں کرتے اور اگر کریں تو یہ غصے ہوتے ہیں کہتے ہیں کہ ہمیں غصہ آجاتا ہے۔اس