خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 163
خطابات ناصر جلد دوم ۱۶۳ افتتاحی خطاب ۱۰ر دسمبر ۱۹۷۶ء ہے قرب کی راہیں کھلتی ہیں اور نفاق کی بلا سے ہمیں نجات حاصل ہوتی ہے۔جو دوری ہے اس کے نتیجہ میں بڑی کمزوری نفاق کی کمزوری ہے۔کیونکہ جہاں قُرب ہو اور جہاں تک قرب ہو نفاق اس کے اندر داخل نہیں ہو سکتا۔اگر کسی شخص کو خدا تعالیٰ کا قرب حاصل ہو جائے تو شیطان بندے اور خدا کے تعلقات کے درمیان نفاق نہیں پیدا کر سکتا اگر کوئی شخص محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچانے ، آپ کی شان سے اُسے واقفیت حاصل ہو، اگر وہ آپ کی عظمت کو جانتا ہو اور وہ عالمگیر احسان جو نوع انسانی پر آپ نے کیا ہے، اس نے اپنی زندگی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احسان کی جھلکیاں دیکھی ہوں تو شیطان کو یہ جرأت نہیں ہوسکتی کہ وہ خدا کے جو بندے ہیں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جو تبعین ہیں ان کے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان نفاق پیدا کر سکے۔دراصل معرفت نفاق کو کھا جانے والی چیز ہے جتنی کسی کی معرفت کافی ہوتی ہے اتنا ہی شیطان کے منافقانہ حملوں سے محفوظ ہو جاتا ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ اس جلسہ کے انعقاد کی ایک غرض یہ بھی ہے کہ باہمی نفاق کو دور کیا جائے اور وہ اس جلسہ میں اس طرح دور ہوتا ہے کہ ہم اصولی اور اعتقادی طور پر خدا تعالیٰ کی ذات اور صفات کے متعلق علم حاصل کرتے ہیں اور پھر خدا تعالیٰ کا جس رنگ میں پیار ہم پر نازل ہو رہا ہے اور جس کا کوئی شمار نہیں اس کو ہماری آنکھیں دیکھتی ہیں۔ہمارے کان سنتے ہیں۔ہمارا ذہن اور ہمارا نور فراست اس کو محسوس کرتا ہے اور اس طرح ہمارے لئے خوشحالی اور اطمینان کے سامان پیدا ہوتے ہیں اور نفاق ہم سے کوسوں دور بھاگ جاتا ہے کیونکہ نفاق ظلمت کا نام ہے اور یہ جلسہ نور کو پھیلانے والا اور نور کو اکٹھا کرنے والا اور ٹور سے جھولیاں بھرنے والا اور نور سے اپنے سینوں کو منور کرنے والا اور نور سے فراست کو جلا دینے والا اور انسان کو ظلمات سے نکال کر اس نور کی طرف لے جانے والا ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے تھے اس لئے اس جلسہ پر ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ ہم اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھا ئیں اور اپنے وقتوں کو کم سے کم ضائع کریں اپنے وقتوں کو خدا اور اس کے رسول کی باتیں سننے سنانے سے معمور رکھیں کیونکہ جس مہدی علیہ السلام پر ہم ایمان لائے ہیں اس کی اللہ تعالیٰ نے ایک یہ صفت بھی بیان فرمائی ہے۔